لاہور کے بعد کراچی سے خبر آگئی

کراچی (نیوز ڈیسک) پولیس کے افسران مبینہ طور پر خاتون اہلکاروں کو چھیڑ چھاڑ کا نشانہ بنانے لگے، خاتون انسپکٹر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا۔مختلف تھانوں میں ایس ایچ او رہنے والی خاتون انسپکٹر سیدہ غزالہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پولیس میں شامل

کالی بھیڑیں مجھے تنگ کر رہی ہیں، مجھے کہا جارہا ہے کہ پولیس کی نوکری چھوڑ دوں ورنہ سوشل میڈیا پر مہم چلائیں گے اور تم خود استعفے پر مجبور ہوجاؤگی۔انہوں نےکہا کہ میں نے ان بدعنوان عناصر اور کالی بھیڑوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے، ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست جمع کرانے کے علاوہ پولیس اعلیٰ افسران کو بھی صورتحال سے آگاہ کیاہے۔خاتون پولیس افسر کا کہنا تھا کہ یہ وہ عناصر ہیں جنہیں عورت کا باعزت مقام پر فائز ہونا قبول نہیں ہوتا ، یہ لڑائی میرے اکیلے کی نہیں ، گھر سے نکلنے والی ہر عورت کی ہے، معاشرے کے ان ذہنی بیماروں کو بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں لاوں گی۔تاہم انہوں نے کسی کا نام لینے سے گریز کیا ہے،اس حوالے سے ان سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی تاہم انکا موبائل نمبر بند تھا۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نےبتایا کہ اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ انکوائری کر رہے ہیں ،انکوائری کے بعد صورتحال سامنے آئےگی۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق عباسی اسپتال کی ڈائریکٹر اسپتال ڈاکٹر سلمیٰ کوثر سے ایک خاتون ہائوس افسر نے چھیڑے جانے کی شکایت کی اور میسجز سمیت تمام شواہد بھی دکھائے، جس پر وارڈ بوائے کاشف کو اپنے دفتر بلوایا اور تفصیلات پوچھیں اور پولیس کے حوالے کردیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *