بھارت کے گاؤں جاتی عمرہ کے لوگ شریف خاندان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟ ایک حیران کن رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) انڈیا کی ریاست پنجاب کے گاؤں جاتی عمرہ کے لوگوں سے شریف خاندان کے بارے میں بات چیت پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے سے کچھ عرصہ پہلے کی گئی تھی تقسیمِ برصغیر کے 70 سال بعد بھی انڈین پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا

دل پاکستان کے شریف خاندان کے لیے دھڑکتا ہے۔نامور صحافی سہیل حلیم اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔امرتسر کے قریب واقع جاتی عمرہ شریف خاندان کا آبائی گاؤں ہے جس کا واحد گرودوارہ ان کے پشتینی مکان میں واقع ہے۔میں گاؤں کے سرپنچ دلباغ سنگھ کے گھر پہنچا تو ایک دیوار پر شہباز شریف کی ایک تصویر لگی ہوئی تھی۔ذہن میں یہ سوال آیا کہ کیا یہ انڈیا کی واحد دیوار ہے جس پر شہباز یا نواز شریف کی تصویر لگی ہوئی ہیں؟دلباغ سنگھ کہتے ہیں کہ ان کے والد اور میاں محمد شریف دوست تھے۔ وہ مجھے گاؤں کا گرودوارہ دکھانے لے گئے۔پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف 2013 میں جاتی عمرہ گئے تھےمقامی گرنتھی نے مجھے بتایا کہ کافی عرصہ پہلے شریف خاندان نے خود گرودوارے کو اپنی زمین دے دی تھی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے والد تقسیم ہند سے پہلے ہی یہاں سے چلے گئے تھے لیکن انھوں نے اس گاؤں سے ناتا نہیں توڑا اور اب مقامی لوگ اپنے مشہور سابق ہمسایوں سے ملنے پاکستان جاتے رہتے ہیں۔دلباغ سنگھ کہتے ہیں کہ ’ہم جب بھی وہاں جاتے ہیں تو بڑی پذیرائی ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ کم سے کم 100 لوگ تو آتے ہیں، ہمارے رہنے کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا جاتا ہے، بہت خاطر ہوتی ہے۔‘سنہ 2013 میں اس وقت کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف یہاں آئے تو

ریاستی حکومت نے گاؤں کا حلیہ ہی بدل دیا۔دلباغ سنگھ کے مطابق شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’اس زمین پر سجدہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔۔۔ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔‘دلباغ سنگھ نے مجھے گاؤں کے باہر ایک کنواں بھی دکھایا جس میں ان کے مطابق ایک مرتبہ شریف خاندان کا ایک اونٹ گر گیا تھا جو اس وقت کاروبار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔جب نواز شریف پہلی مرتبہ الیکشن جیتے تو پورے گاؤں نے مل کر خوشی منائی اور گرنتھی اندرجیت سنگھ نے مجھے بتایا کہ ’جب ان کی حکومت کا تختہ پلٹا گیا تو گرودوارے میں ان کے لیے دعائیں ہوئیں اور آخر کار وہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس لوٹ سکے۔‘میں نے پوچھا کہ جب پاکستان سے آ کر مبینہ عسکریت پسند انڈیا میں کوئی حملہ کرتے ہیں تو انھیں کیسا لگتا ہے تو اندرجیت سنگھ نے کہا کہ ’وہاں جو بھی وزیراعظم بنتا ہے اس کے بس میں تھوڑی بات رہ جاتی ہے، دہشت گردی پھیلانے والوں کے ہاتھ میں زیادہ ہے۔۔۔ لیکن ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے تمام اختیارات کا استعمال کر کے دونوں ملکوں کےدرمیان محبت پیدا کریں۔‘دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’جب سرحد پر لوگ مرتے ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے، ہم بس یہ ہی سوچتے ہیں کہ جتنا پیار وہ جاتی عمرہ سے کرتے ہیں اتنا ہی دونوں ملکوں کے درمیان بھی ہونا چاہیے۔‘جاتی عمرہ ایک عام سا گاؤں ہے جو تقسیم کے 70 سال بعد بھی اپنے ایک خاندان کے غیر معمولی سفر پر ناز کرتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.