مالک کو کُچھ اور منظور تھا

کارخانہ قدرت میں اہل علم، اہل دانش اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں بکھری پڑی ہیں، غور کرنے والے ان نشانیوں کو ڈھونڈ نکالتے ہیں، اہل دانش ان سے دانائی حاصل کرتے ہیں اور اہل علم اپنے علم کی روشنی میں ان نشانیوں کی حقیقت بیان کر دیتے ہیں۔

غور کرنے والے جانتے ہیں کہ قصے کہانیوں میں علم اور دانائی چُھپی ہُوئی ہے اسی لیے رب کائنات خود بھی اپنی کتاب میں کہانیاں سُناتا ہے تاکہ ان کے نتائج سے انسان اپنا کردار بُلند کر سکے اور ان سے علم حکمت سیکھ سکے۔یہ کہانی بھی علم اور حکمت اور دانائی کے درس سے آپ کی روح کو آشنا کرے گی اور آپ کو پتہ چلے گا کے بصارت کے بغیر بصیرت اضطراب برپا کر سکتی ہے۔کہتے ہیں ایک شخص نے اپنی نوجوان اور خوبصورت بیوی کے کہنے پر اپنی ماں کو گھر سے نکال کر گداگری پر مجبور کر دیا، بوڑھی ماں بیچاری ایسے قسم پرسی کے حالات میں 2 دن میں ہی مر گئی ، وقت کے بادشاہ نے خواب دیکھا اورخواب میں ایک بزرگ نے بادشاہ سے اُسی آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہا کہ فلاں بستی میں اس شخص کو اپنے پاس بُلاؤ اور اُسے 100 اونٹ سونے کی اشرفیوں سے لاد کر دو۔بادشاہ غور کرنے والوں میں سے تھا اُسے پتہ چل گیا تھا کہ اُسکا خواب عام خواب نہیں ہے اور کسی بات کی طرف اشارہ ہے چنانچہ اُس نے اپنے دانا وزیر کو اپنا خواب بیان کیا، وزیر نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت اگر اُس بستی میں وہ آدمی رہتا ہے جو آپ کو خواب میں بتایا گیا ہے تو آپکے خواب میں ضرور کوئی حکمت چُھپی ہے۔

بادشاہ نے وزیر کی بات سُن کر اپنے ساتھ سپاہیوں کا دستہ لیا اور بزرگ کی بتائی ہوئی بستی میں خود جا پہنچا اوربستی کے باہر درخت کے نیچے بیٹھے ایک بوڑھے باریش سے اُس شخص کے بارے میں دریافت کیا تو بوڑھے نے بادشاہ سے کہا” وہ کوئی اچھا انسان نہیں ہے وہ اپنی ماں پر ظلم کرتا تھا اور اس کے ظلموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اُس کی بوڑھی ماں دُنیا سے رخصت ہو گئی، جائیں بستی میں پہلا مکان اُسی کا ہے۔بادشاہ جب اُس شخض کے دروازے پر پنہچا تو وہ شخص بادشاہ کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا اُسے لگا کہ بادشاہ اب اُسے اُس کے اعمالوں کی سزا دے گا، مگر بادشاہ اُسے اپنے ساتھ محل لیکر آیا اور اُسے 100 اونٹ سونے کی اشرفیوں سے لاد کر انعام کے طور پر دئیے جنہیں پاکر ظالم کی تو لاٹری لگ گئی، وہ بادشاہ کا شُکر ادا کرتے ہُوئے دولت کے نشے میں چُور اپنی بستی واپس آگیا اور عیش عشرت کی زندگی گُزارنی شروع کر دی۔اُدھر بادشاہ اور اُسکے دانا وزیر نے اُس شخص پر مکمل نظر رکھی ہُوئی تھی اور وہ خواب کی حقیقت جاننا چاہتے تھے مگر کئی سال گُزر گئے اُس شخص کے حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی وہ عیش و عشرت اور شباب و شراب میں ڈوبا اپنی خر مستیوں میں مصروف زندگی گُزار رہا تھا اور پھر ایک دن نشے میں اپنے ہی گھر کی چھت سے نیچے گرا اور مر گیا۔

بادشاہ کو جب اُسکے مرنے کی خبر ملی تو وہ واپس اُس شخص کی بستی میں گیا اور اور پھر بستی کے باہر درخت کے نیچے اُسی بوڑھے باریش سے ملا جس نے اُسے اس شخص کا پتہ بتایا تھا، بُوڑھے نے جو اہل علم تھا بادشاہ کو دیکھا اور بولا ” جس دن میں نے آپکو اس شخص کی شکایت لگائی تھی میں چاہتا تھا کہ آپ اسے سزا دیں تاکہ شائد اس کے گُناہوں کی کُچھ تلافی ہو جائے مگر مالک کو کُچھ اور منظور تھا”۔
بادشاہ نے بُوڑھے سے پُوچھا ” مالک کو کیا منظور تھا محترم”، بوڑھا بولا ” اُس دن آپ نے اسے سونے سے لدے ہُوئے اونٹ عنایت کیے تو مُجھے پتہ چل گیا کہ رب کائنات نہیں چاہتا کہ یہ شخص توبہ کے قریب بھی جائے اور پھر ایسا ہی ہُوا دولت کے نشے میں چُور ہوکر وہ ہر چیز بھول گیا آسائشوں نے اُسے نہ تو اُسکے خالق کو یاد کرنے دیا اور نہ ہی کبھی اُسے اپنی کیے ہُوئے کاموں پر ندامت ہُوئی اور اسی عیش و عشرت میں اُس نے کبھی توبہ نہیں کی اور ہلاک ہو گیا”۔

Sharing is caring!

Comments are closed.