آزادی مارچ: جے یو آئی ایف کو پہلا جھٹکا، تین بڑے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) جے یو آئی ایف کو پہلا جھٹکا، تین بڑے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں اور جمعیت علماء اسلام نے آزادی مارچ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاہم


وانا میں جے یو آئی ایف کے تین مقامی رہنماﺅں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیاہے ۔نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق جے یوآئی ایف کے تینوں مقامی عہدیداروں کیخلاف ایف آئی آر میں کہا گیاہے کہ یہ افراد ملکی سالمیت اور حکومت وقت کے خلاف دہشت پھیلا رہے تھے جبکہ ان پر آزادی مارچ کیلئے چندہ جمع کرنے اور میٹنگ کا الزام ہے ۔ایف آر کے متن میں کہا گیاہے کہ متعلقہ افراد امن خراب کرنے اور لسانیت کو ہوا دے رہے تھے ۔یاد رہے کہ کچھ دن قبل جے یو آئی ایف کے کارکنوں کی ایک ویڈیو وائرل ہو ئی تھی جس میں مقامی عہدیداران حکومتی رکاوٹوں کے پیش نظر دریائے سندھ کو کشتیوں کے ذریعے پار کرنے کی ریہرسل کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں ۔ دوسری طرف آج ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے ایران کی دفاعی طاقت کوبڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ انقلابی گارڈزمزیدترقی یافتہ اورجدید ایٹمی ہتھیاروں پرکام کریں ، ہتھیاروں کوایران میں ہی تیارکیاجاناچاہیے،ایرانی سپریم لیڈرکا کہنا ہے کہ ایران کواپنے جدیدہتھیارتیارکرنے کی ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کم کروانے کے لیے ایران پہنچ گئے ہیں۔ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ائیرپورٹ پر وزیراعظم کا استقبال کیا ہے۔ وزیراعظم ایک روزہ دورہ ایران کے بعد سعودی عرب روانہ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق یہ ایک روزہ دورہ ایران سعودی عرب کشیدگی کے تناظر میں کیا جارہا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اورمعاون خصوصی زلفی بخاری بھی وزیراعظم کے ہمراہ، وزیر اعظم کی دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر حسن

روحانی اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنائی سے ملاقاتیں کریں گے اور ایرانی قیادت سے خطے میں امن و سلامتی کے امور پر بات چیت کریں گے۔ دوسری جانب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں اور وزیراعظم عمران خان بھی ایران کے دورے کے بعد سعودی عرب جائیں گے ، ڈی جی آئی ایس آئی ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور معاون خصوصی زلفی بخاری بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہونگے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایران سعودیہ کشیدگی کم کرانے کے تناظر میں سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔ گزشتہ روز وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان کوئی ثالث ہونے کا دعویٰ نہیں کررہے، ہم سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں کہ دو برادر ملکوں میں جو غلط فہمیاں ہیں ان کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران میں غلط فہمی دور کرنے کیلئے ضرور کردار ادا کرے گا ، یہ خطہ اب کسی اور چپلقش کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہم افغانستان کی چپقلش کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ ایران خلیجی خطے میں امن و سلامتی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے ثالثی کا کردار امت مسلمہ اور دنیا کی طرف سے وزیراعظم عمران خان دنیا بھر میں نئے،پرعزم، بااعتماد،باوقار اور روشن پاکستان کا چہرہ متعارف کرا رہے ہیں.

Sharing is caring!