اصل میں سی ایس ایس کرنے والا ’ شاہ رُخ‘ کون نکلا؟ قوم کا سینہ فخر سے بُلند

لاہور(نیوز ڈیسک) پولیس اہلکار کا کانسٹیبل سے اے ایس پی بننے کا خواب ادھورا رہ گیا۔سی ایس ایس امتحان پاس کرنے کی خبر پھیلانے والے پنوعاقل کے پولیس کانسٹیبل شاہ رخ عباسی کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی تھی کہ پولیس کانسٹیبل نے سی ایس ایس امتحانات

میں کامیابی حاصل کر لی ہے، بتایا گیا تھا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے شاہ رخ کلہورو سی ایس ایس امتحانات میں 78 ویں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد بطور اے ایس پی بھرتی ہو گیا ہے.اس نے سیٹ نمبر 9326 پر سی ایس ایس کا امتحان دیا تھا جس کے بعد اب کامیابی کی صورت میں وہ بطور اے ایس پی بھرتی ہو گیا ہے۔دراصل پنوعاقل کے پولیس کانسٹیبل نے تھانیدار کو ماموں بنایا۔شاہ رخ عباسی نے سی ایس ایس امتحان میں پاس ہونے کی جھوٹی خبر پھیلائی۔مٹھائی بانٹی اور ایس ایچ او کے ساتھ تصاویر بھی بنائیں لیکن امتحان میں کامیاب ہونے والا شاہ رخ خان کوئی اور تھا جو کرنل ریٹائرڈ مختار احمد کا بیٹا اور پہلی خاتون پائلٹ شہید مریم مختیار کا بھائی شیخ شاہ رخ خان ہے۔غلط خبر کی تصدیق کرنے اور سوشل میڈیا پر تصویر لگانے پر ایس ایس پی عرفان علی سموں نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا ہے جبکہ کانسٹیبل شاہ رخ عباسی کو کوارٹر گارڈ کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس کہانی کا آغاز فیس بک سے ہی ہوا، جب پنوعاقل تھانے کے ایس ایچ او مشتاق جتوئی نے اپنے پیج پر سپاہی شاہ رخ کلہوڑو کی فخریہ انداز میں تصاویر رکھیں، جس نے پھلوں کے ہار پہن رکھے ہیں، ایس ایچ او نے تحریر کیا کہ ”سندھ کا ٹیلنٹ پولیس کانسٹیبل شاہ رخ کلہوڑو اے ایس پی تعینات”۔فیس بک پر یہ خبر اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد شاہ رخ خان نامی نوجوان سامنے آیا جس نے فیس بک پر تحریر کیا کہ ’میرا نام شاہ رخ ہے اور میں شیخ ہوں، میرا تعلق پنوعاقل سے ہے، خدا کے کرم سے مجھے پی ایس پی ایلوکیٹ کیا گیا ہے، میں نے 2019 میں سی ایس ایس پاس کیا تھا اور میں 2018 میں لمز لاہور سے گریجویٹ ہوں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.