یہ ہوتی ہے خودداری۔۔!! اپنی عزت بچانے کی خاطر پاکستان کی نامور اداکارہ ’ منال خان ‘ نے کیا کر دیا، مداحوں کے لیے یقین کرنا مشکل

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) پاکستان میں بھی کورونا وائرس بڑھنے کے باعث ہر شخص خود ساختہ قرنطینہ میں چلا گیا ہے، ملک کی نامور شخصیات بھی غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے اجتناب کر رہی ہیں، سیاستدان، شوبز شخصیات ، کاروبای شخصیات سب ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ، تمام تر سرگرمیاں معطل اور محدود ہو کر رہ گئیں ہیں،

ایسے میں پاکستان کے اداکاروں اور اداکاراؤں نے خود کو اور اپنے مداحوں کو مصروف رکھنے کے لیے لائیو سیشن کا کا آغاز کر دیا ہے جس میں شوبز شخصیات لائیو آتی ہیں اور اپنے مداحوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی نامور بہنوں کی جوڑی یعنی ایمن خان اور منال خان بھی لائیو آئیں اور مداحوں کے سوالوں کا جواب دیا ۔ لائیو سیشن کے دوران ہی ایمن خان کی بہن منال خان نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا وہ مارننگ شو کی ہوسٹ بننا پسند کریں گی؟ جس پر ایمن خان کا کہنا تھا کہ میں مارنگگ شو کی ہوسٹ بننے سے بہتر ہے موت کو ترجیح دے دوں ، یہ جواب دیتے ہی دونوں بہنوں نے زوردار قہقہہ لگایا اور مداحوں کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن جاری رکھا ۔دوسری جانب عروف اداکار ہمایوں سعید 14 دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد گھر واپس آگئے ہیں جس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر کیا ہے۔پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے معروف اداکار ہمایوں سعید نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر شیئر کی، اداکار کی جانب سے شیئرکی جانےوالی تصویر میں وہ اپنے گھر میں موجود ہیں۔ ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آخر کار 14دن قرنطینہ میں رہنے کے بعد آج میں گھر واپس آگیا ہوں۔‘اداکار نے لکھا کہ ’اِس دوران میں نے زندگی پر غور و فکر کرنے میں بہت زیادہ وقت صرف کیا ہے۔‘انہوں نے لکھا کہ’اور مجھے یہ احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں کہ میں ان نعمتوں کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا ہوں۔‘ہمایوں سعید نے سوالیہ انداز میں لکھا کہ’کیا انشا اللہ اِس مشکل وقت میں ہم مستحق لو گوں کی مدد کے لیے ہر ممکن طاقت اور طریقے سے کام کریں گے۔‘واضح رہے کہ ہمایوں سعید گزشتہ ماہ امریکا سے پاکستان آئے تھے جس کے بعد انہوں نے احتیاط کے طور پر خود کو قرنطینہ کردیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.