حکیم محمد سعید نے ایک بار کہا تھا : میں حیران ہوں کہ جس بندے کی خوراک میں یہ چیز شامل ہو وہ ۔۔۔۔

حکیم سعید مرحوم دہی کی افادیت بیان کرتے کہا کرتے جو اسکو کھاتے ہیں نجانے مر کیوں جاتے ہیں، یہ بہت زود ہضم ہوتی ہے۔اسی طرح آپ ؐ نے فرمایا کہ مرغی کا انڈہ دیگر پرندوں کے مقابلہ میں معتدل ہوتا ہے،تازہ انڈہ پرانے سے بہتر ہوتا ہے ۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ

آپ ؐ نے جو آخری کھانا تناول فرمایا اس میں پیاز بھی تھے،یہ بھی بلغم ختم کرتا ہے،یرقان، کھانسی، سینے کی جلن میں آفاقہ دیتا ہے، لیکن اسکی بدبو کے ساتھ مسجد جانے سے منع فرمایا گیا ہے لہسن بھی اپھارا دور کرتا،کھانا ہضم کرتا ہے۔پا نی ایک بڑی نعمت ہے،آپؐ تین سانس میں پانی پیتے، پیالہ میں سانس لینے ،ٹوٹے برتن میں پینے ے منع فرمایا ،آپؐ کا ارشاد ہے ہر مسلمان پر اللہ کا حق ہے کہ ہر ہفتہ میں ایک بارغسل کرے ،میسر ہو تو خوشبو بھی لگائے۔عمدہ خوشبو روح کی غذا ہے،آپ معتدل خوشبو پسند فرماتے تھے، ہمیشہ اجلا، صاف ستھرا لباس زیب تن فرماتے، چمکدار، سرخ کپڑے ناپسند کرتے سفید رنگ آپ ؐ کو بہت پسند تھا ،یمنی چادر استعمال کرتے،آپکا عمامہ اتنا بڑا نہ ہوتا کہ اس کے بوجھ سے تکلیف محسوس ہو۔ہائش کے بارے میں آپکا ارشا د گرامی ہے کہ گھر سادہ اورموسم کی حدت اور شدت سے محفوظ ہو،اسکی چھت، دیواریں اتنی کمزور نہ ہوں کہ گرانباری سے سر پر آگریں، مکان کی ہیت ایسی نہ ہو کہ مکین تنگی محسوس کریں مگر کشادہ اتنا بھی نہ ہو، کہ بیکار پڑاہو اور موذی جانور ان خالی جگہوں پر جم کر بیٹھ جائیں۔آپ ؐ ذکر الہی سے رطب اللسان رہتے ،یہاں تک کہ آنکھیں نیند کے غلبے سے موند لیتے،دائیں کروٹ سوتے، فرماتے بائیں طرف زیادہ سونا دل کیلئے نافع نہیں، ننگی زمین پر سونے سے منع فرمایا،آپکا بستر چمڑے کا مگر اس میں کھجور کا ریشم ہوتا،آپکی شریفانہ عادت دوپہر کو کھانے کے بعد سوناتھی، آپؐ نے پیٹ کے بل سونے کو بدتر کہا، آپؐ نے فرمایاد ھوپ میں سونے سے جان لیوا بیماری ابھرتی ہے۔ امکان غالب ہے کہ دنیا کو ان وبائوں سے نجات کیلئے اس طرز زندگی کو اپنانا پڑے گا جو فطرت کے قریب تر ہے، رہن سہن سے لے کر حلال کھانے پینے تک کا عمل حیاتؐ مبارکہ سے ملتا ہے،،قرآن نے بھی اسکو انسانیت کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.