ایک اور نامور اینکر نے استعفیٰ دیتے ہوئے میڈیا کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا دے دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آج کل پاکستان کی میڈیا انڈدسٹری خاصا زوال کا شکار ہے اس کی ایک وجہ تو کورونا وائرس ہے اور دوسرا حکومت کی جانب سے میڈیا مالکان کے لئے خزانے کے مُنہ بند کر دینا ہے جس کی وجہ سے اکثر نامور میڈیا شخصیات اس سے کنارہ کشی پر مجبور ہو چکی ہیں۔

سینئر اینکر پرسن شہزاد حسن نے بارہ اگست کو اچانک جی این این سے استفعیٰ دیا لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ اچانک فیصلہ کیوں کیا گیا ہے، شہزاد حسن نے اپنے ساتھی اینکرز دوست ناجیہ اشعر اور جنید سے ویڈیو گفتگو میں اصل حقیقت بیان کردی۔شہزاد حسن نے بتایا کہ میری تنخواہ آدھی کردی گئیتھی، یعنی آج سے بارہ سال پہلے جو میری تنخواہ تھی مجھے دوبارہ اسی تنخواہ پر لے جایا گیا، پہلے میرا ایک بچہ تھا اب میرے تین بچے اور آٹھ کتے ہیں، دنیا میں کچھ بھی سستا نہیں ہوا،سب مہنگا ہوا ہےاور میری تنخواہ آدھی کردی گئی ہے، میں نے فیصلہ لیا کہ میں اپنی سروس ان پیسوں میں نہیں بیچنا چاہتا ہوں، اسلئے میں نے جاب چھوڑی اور اب میں سوچ رہاہوں کہ مجھے مستقبل میں کیا کرنا ہے، میں پاکستان میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا،میں کھیتی باڑی کروں گا، یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں چلا جاؤں گا، میرے اس اچانک فیصلے کے بعد مجھے گھر جاکر اماں کی ڈانٹ سننی ہے، بیوی کے مسائل سننے ہیں کہ اگلا ماہ کا خرچہ کیسے اٹھانا ہے۔میڈیا کے حالات سے مایوس ہو کر شہزاد حسن مشورہ دیا کہ میں ان تمام لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں جو میڈیامیں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کچھ اور کرسکتے ہیں تو کرلیں کیونکہ میڈیا میں آئندہ پانچ سال بہت خراب ہونے والے ہیں، اور اگر کرنا بھی چاہتے ہیں تو کمر کس لیں۔

شہزاد حسن نے واضح کردیا کہ وہ بالکل بھی دوبارہ میڈیامیں نہیں آنے والے ہیں، انہوں نے بتایا کہ انہیں دو تین چینلز سے کالز آئی ہیں لیکن وہ کیمرہ کے سامنے اور پیچھے کام نہیں کرینگے، انہوں کیمرہ بالکل چھوڑ دیا، اٹھارہ سال اس فیلڈ میں گزارے ہیں، بہت انجوائے کیا، اور اب میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں میڈیا سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہے گا۔شہزاد حسن نے کہا کہ نیوز اینکر سے پروگرام اینکر بننے کو پاکستان میں کامیابی سمجھا جاتا ہے جو ایک غلط تاثر ہے، کیونکہ اگر آپ نیوز اینکر سے پروگرام اینکر نہیں بنے تو آپ فیل ہوگئے ایسا پاکستان میں سمجھا جاتا ہے، جبکہ دونوں بہت الگ الگ صورتحال ہوتی ہیں بہت الگ فیلڈ ہیں، ماریہ میمن، منصور علی خان اور غریدہ فاروقی سمیت بہت گنے۔چنے نیوز اینکرز ہیں جو پروگرام اینکرز بنے ہیں، اگر آپ نیوز اینکر ہیں تو آپ سینیئر نیوز اینکر بن جاتے ہیں، آپ کو ایگزیکٹو پوسٹ نہیں ملتی، آپ کے زیرنگرانی جو پینل پروڈیوسر کام کررہے ہوتے وہ آپ کے ڈائریکٹر بن کر آپ کو کام سکھارہے ہوتے ہیں۔شہزاد حسن نے کہا اگر نیوز اینکر کسی رپورٹر کے علاقے میں رپورٹنگ کرنے جاتا ہےتو رپورٹر ناراض ہوجاتا ہے شکایت کردیتا ہے، ہرجگہ پر اینکر کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے،شہزار حسن نے جیو نیوز میں کام کے وقت کو یاد کرتے ہوئے ناجیہ اشعر سے تصدیق کے ساتھ کہا کہ جب ہم جیو نیوز پر کام کرتے تھے تو ہم اپنی مرضی سے ایک لائن نہیں کہہ سکتے تھے، لنک نہیں کرسکتے تھے، جب آپ اپنا دماغ استعمال نہیں کرسکتے تو کیا کرینگے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.