بریکنگ نیوز: حکومت نےسیروسیاحت کے شوقین افراد کو بڑی خوشخبری دے دی

لاہور(ویب ڈیسک)لاہورمیوزیم انتظامیہ کا مغلیہ اور تغلق دور کی تاریخی ونایاب مخطوطات کو اسلامک گیلری میں مستقل نمائش کے لیے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،300سے زائد تاریخی مخطوطات اسلامک گیلری کی باقاعدہ زینت بنیں گے۔تفصیلات کے مطابق لاہورمیوزیم انتظامیہ کا مخطوطات کو اسلامک گیلری کا باقاعدہ حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا, مخطوطات کو اسلامک گیلری

لاہور(ویب ڈیسک)لاہورمیوزیم انتظامیہ کا مغلیہ اور تغلق دور کی تاریخی ونایاب مخطوطات کو اسلامک گیلری میں مستقل نمائش کے لیے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،300سے زائد تاریخی مخطوطات اسلامک گیلری کی باقاعدہ زینت بنیں گے۔تفصیلات کے مطابق لاہورمیوزیم انتظامیہ کا مخطوطات کو اسلامک گیلری کا باقاعدہ حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا, مخطوطات کو اسلامک گیلری

میں رکھا جائے گا, کوفی، نسق اورنستالی پرمشتمل مغلیہ دور اور تغلق دورحکومت کے نایاب مخطوطات گیلری کی زینت بنیں گے۔انچارج اسلامک گیلری احتشام الحق کا کہنا تھا کہ لاہور میوزیم کے ذخیرے میں محفوظ کیے گئے300سے زائد تاریخی مخطوطات محفوظ ہیں،میوزیم انتظامیہ کیلیگرافی آرٹ کے تحقیقی مقالے پیش کیے جائینگے۔مخطوطات کی دلدادہ طالبات کا کہنا تھا کہ صدیوں پرانےمخطوطات اور جدید دور کےمخطوطات کو ایک ساتھ دیکھ کر سیکھنے کا موقع میسر آئے گا،میوزیم انتظامیہ نے نئی نسل کو کیلیگرافی کے فن سے روشناس کرانے کےلیےماہانہ ورکشاپ کےانعقاد کا بھی اعلان کردیا۔ان کا مزید کہناتھا کہ مغلیہ وتغلق دورکی تاریخی مخطوطات کی ایک ساتھ نمائش سے فن خطاطی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق شہرمیں چوروں اور ڈاکووں کا راج بڑھنے سے نئی قیادت کی کارکردگی سے آئی جی پنجاب پریشان ہوگئے، آئی جی پنجاب نے ملزمان کی گرفتاری میں عدم دلچسپی کا نوٹس لیتے ہوئے بہتر حکمت عملی اپنانے کا حکم دے دیا۔آئی جی پنجاب شعیب دستگیرنے شہرمیں ڈکیتی، چوری اورقتل کی بڑھتی وارداتوں پراظہارِتشویش کرتے ہوئے لاہور پولیس کو بڑھتے ہوئے کرائم کی نشاندہی کرتے ہوئے نااہلی پر پردہ ڈالنے کی بجائےعملی اقدامات کی ہدایت کی ہے، آئی جی پنجاب نے پچھلے 2ماہ کے دوران ڈکیتی، ڈکیتی قتل اور گاڑی چوری سمیت دیگر وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ پربرہمی کا اظہارکیا۔آئی جی پنجاب کا کہناتھا کہ کرائم پرقابو پانے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے لاہورپولیس کواپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی،خطرناک اشتہاریوں کی گرفتاریوں میں پولیس کی عدم دلچسپی ہے اور انتہائی خطرناک قیدی بھی شہرمیں دھندناتے پھر رہے ہیں۔آئی جی پنجاب نے مراسلہ میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرائم پرقابو پانے کے لیے سب سے زیادہ سہولیات اورمتعدد فورسزکے ہونے کے باوجود ایسی کارکردگی قابل قبول نہیں، زیادتی کے کیسزمیں ڈی این اے رپورٹ کی پیروی نہیں کی جاتی۔فوری طور پر پنجاب فرانزک سائنس سے ڈی این اے کی رپورٹس حاصل کرکے کارروائیاں کی جائیں،انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس حراست میں ملزمان کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ بھی دی جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.