ایک بار جنرل حمید گل مرحوم اور عمران خان نے عبدالستار ایدھی کو ساتھ ملکر نئی قسم کی سیاست کا رواج ڈالنے کی کوشش کی تھی ، مگر عبدالستار ایدھی نے کیا کہہ کر انکار کیا تھا ؟ ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) 25جولائی 2018کو تبدیلی آہی گئی اور عمران خان اس ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ اب یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری پھر بھی ہم کہتے ہیں اس ’جمہوریت‘ نے ہمیں کیا دیا۔ ابھی اس بات کو صرف دو سال ہی ہوئے ہیں کہ پھر تبدیلی کی افواہیں گرم ہیں،

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کبھی مائنس ون تو کبھی مائنس ٹو۔ چلنے دیں نظام کو، بار بار وہ کام نہ کریں جو آپ کو آتا نہیں ہے، اسی لیے تجربات ناکام ہوتے ہیں۔25جولائی کو سونامی آیا اور بہت کچھ تباہ کر گیا۔ کئی سیاسی دکانیں بند ہو گئیں۔ مگر یہ سیاست ہے اور پانچ سال بڑا وقت ہوتا ہے، سیاسی غلطیوں سے سیکھنے کا۔ اس الیکشن نے بہت کچھ تبدیل کردیا۔ مجھے تو خیر 2011سے نظر آرہا تھا کہ سیاست کا رخ تبدیل ہورہا ہے۔اب آجاتے ہیں بنیادی سوال پر کہ یہ تبدیلی کیسے آئی۔ کمال ہے جو چیز مجھے 2011میں نظر آرہی تھی وہ بڑے سیاسی قائدین کو کیوں نظر نہ آئی۔پی پی پی کا ووٹ پنجاب اور کے پی میں تحریک انصاف لے گئی مگر مسلم لیگ(ن) نہ توڑ سکی اور 2013کا الیکشن مسلم لیگ جیت گئی اور 2018کے نتائج بھی یہ بتاتے ہیں ’’تخت لاہور‘‘ کو تبدیل کرنے میں کس کس کاریگر نے کام کیا۔البتہ 2013میں کے پی کی جیت کا مکمل کریڈٹ عمران کی مقبولیت، اس کے آپریشن مخالف بیانیہ کو جاتا ہے تو 2018کا الیکشن پرویز خٹک کی پالیسی اور سیاسی فکر کو جاتا ہے۔ عمران کا کریڈٹ یہ ہے کہ اس نے 22سال کرکٹ کو دیے اور ورلڈ کپ، 92پاکستان کو دے کر ریٹائر ہو گیا۔22سال سیاست کو دیے اور ملک کا وزیراعظم بن گیا۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے جسے ہم ہضم نہیں کر پاتے۔ 1996میں زمان پارک لاہور میں چند غیرسیاسی لوگوں کے ساتھ سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور بڑی

بحث کے بعد نام رکھا تحریک انصاف۔کیوںکہ غیرسیاسی لوگ تھے لہٰذا چند ماہ بعد ہی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا اب نہ تجربہ نہ ہی لوگ۔ بغیر تیاری امتحان دینے کہ جو نتائج آتے ہیں وہی نتیجہ آیا۔ شکست کے بعد جب سب جمع ہوئے تو کپتان نے کہا گھبرانا نہیں ہے۔ کچھ مایوس تھے مگر اس بات پر متفق تھے کہ اس الیکشن سے الیکشن کا تجربہ ہو گیا۔ان لوگوں کے اس جذبے کو دیکھ کر کچھ عوامی سلیکٹرز کی اس پر نظر پڑی اور ایک خاموش حمایت کا فیصلہ کیا گیا۔ جنرل (ر) حمید گل مرحوم نے عمران کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور اس بات پر قائل کیا کہ کرپٹ سیاست دانوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیتے ہیں انہوں نے سماجی کارکن عبداستار ایدھی مرحوم کو بھی دعوت دی۔وہ 1970کے الیکشن میں اپنا حشر دیکھ چکا تھا، اس نے توبہ کی، دبائو بڑھا تو وہ لندن چلا گیا اور گل پلان کو بےنقاب کردیا۔ عمران نے ایک بار مجھے بتایا ’’یہ درست ہے کہ میں کچھ عرصے کے لیے گل کے ساتھ چلا مگر جلد ہی محسوس کیا کہ میں ساتھ نہیں چل سکتا تو الگ ہو گیا‘‘۔بہرحال وہ سلیکٹر کی نظر میں آہی گیا تھا۔12اکتوبر 1999کو جنرل (ر) پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تو عمران نے پارٹی اجلاس بلایا اور طے کیا کہ اگر

مشرف نواز اور بےنظیر بھٹو کی حکومتوں کی کرپشن کیخلاف کارروائی کرتا ہے تو ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہئے۔ مشرف سے وہ 2002میں اس وقت مایوس ہو گیا جب جنرل نےچوہدریوں پرہاتھ رکھ دیا اور عمران کو سمجھایا کہ ’’شریفوں‘‘ کا مقابلہ یہی کر سکتے ہیں۔بہرحال مشرف کا ساتھ چھوڑا تو عمران کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔ وہ مذہبی ووٹ بھی توڑ رہا تھا اور پی پی پی کے روشن خیال بھی اس طرف مائل نظر آنے لگے۔ وکیلوں کی تحریک میں وہ بڑی آواز بن کر ابھرا۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران مشرف مخالفت میں نواز شریف اور قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ تھا۔2007میں بےنظیر بھٹو کی شہادت نے ملک کا سیاسی منظرنامہ ہی بدل دیا۔ جنوری 2008کے الیکشن ایک ماہ کے لیے ملتوی ہوئے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی پہلے ہی مشرف کے ماتحت الیکشن کا بائیکاٹ کر چکی تھیں مگر مسلم لیگ(ن) نے اس کے برخلاف حصہ لیا۔ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کا یارانہ عمران کے لیے مقبولیت کا پروانہ بن گیا۔ وہ اب سب سے بڑا اپوزیشن لیڈر بن گیا اور تحریک انصاف تیسری قوت بن کر ابھری۔سلیکٹرز کی نظر میں تو و ہ پہلے ہی آگیا تھا مگر پھر بھی پنجاب قابو نہیں آرہا تھا لہٰذا 2014کےدھرنے کے بعد پانامہ لیک کیا آئی کہ عمران کی تو لاٹری نکل آئی۔ میاں صاحب کی نااہلی نے رہی کسر پوری کردی۔ پھر بھی ٹیم بنانے میں سلیکٹرز کو دشواری پیش آئی مگر یہ کام تو اس ملک میں ہمیشہ ہوتا ہے اس سے عمران اور تحریک انصاف کی زمان پارک سے وزیراعظم ہائوس تک کی جدوجہد کا کریڈٹ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ آئندہ کالم دوسال کی کارکردگی پر۔

Sharing is caring!

Comments are closed.