بریکنگ نیوز۔۔۔!!! پرویز مشرف کی وطن واپسی کے حوالے سے بڑا اعلان، قوم کو ایک اور سرپرائز دے دیا گیا

لاہور( نیوز ڈیسک) تجزیہ کار سلیم بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ پروزمشرف جلد پاکستان آئیں گے ۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری کا کہا کہ پرویز مشرف جلد پاکستان آئیں گے ۔ حکومت روک نہیں سکتی، ان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستا ن نے خود مشرف کا کیس لڑا ہے ۔

پرویز مشرف کی واپسی کا ماحول بن چکا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تین سال تک پرویز مشرف سکون میں رہیں گے۔مشرف کلین مین ثابت ہوگئے ہیں ۔ سب پابندیاں ختم ہو گئی ہیں انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے مجھے نہیں لگتا اس کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کیا جائے۔ پرویز مشرف کی صحت بھی ٹھیک ہو جائے گی، پوری قوم کو چاہیے کہ اس طرح کی صورتحال دیکھنے کیلئے تیار رہے۔ دوسری جانب نجی ٹی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت اچھا ہے،مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا میری طبعیت بہتری کی طرف گامزن ہیں،صحتیابی کی دعا کرنے والوں کو شکرگزار ہوں۔پرویز مشرف نے مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے۔تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بات کروں گا۔ واضح رہے کہ آج لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف فیصلہ سنایا۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ نے پرویز مشر ف کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔تین رکنی فل بینچ میں جسٹس مسعود جہا نگیر اور جسٹس محمد امیر بھٹی شامل ہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیرآئینی قرار دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کی عدم موجودگی پر فیصلہ سنانا غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے۔ آرٹیکل 6کے تحت ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔صرف وزیراعظم کی حکم پر کاروائی آئین کی خلاف ورزی ہے۔استغاثہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتا۔عدالت نے کرمنل لا اسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976ء دفعہ 4 کو کالعدم قرار دی دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف

فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دے دیا۔خیال رہے کہ لاہورہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویزمشرف کی سزائے موت پرعملدرآمدرکوانے کیلئے دوبارہ متفرق درخواست دائرکردی گئی، جوسماعت کے لیے بھی مقررکردی گئی تھی۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا فیصلہ عجلت میں سنایا، خصوصی عدالتی کی تشکیل سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے. پرویز مشرف کی جانب سے 85 صفحات پر مشتمل درخواست میں عدالتی فیصلے کے پیرا گراف 66 پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی عدالت نے عجلت میں فیصلہ سنایا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق صدر کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، جبکہ خصوصی عدالت کے رکن جسٹس نذر اکبر نے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ 2007ءمیں آئین کی معطلی غداری کے زمرے میں نہیں آتی تھی.درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روکا جائے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ 9جنوری کو درخواست پر سماعت کی تھی.ے،پرویز مشرف کی درخواست کے مطابق خصوصی عدالت نے انہیں شفاف ٹرائل سے محروم رکھا ہے جبکہ زیر سماعت چار درخواستیں سنے بغیر فیصلہ سنا دیا گیا ہے جو قانون و آئین کی خلاف ورزی ہے،سابق صدر نے اپنی درخواست میں خصوصی عدالت کے فیصلے کے پیرا 66 کو بھی چیلنج کیا اور پیرا 66 کو اسلامی اقدار اور قانون کے منافی کہا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر فوری عمل درآمد روکنے کا حکم دے اور عدالت عالیہ خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.