اگر پی ایس ایل میچز ملتوی نہ کئے جائیں تو میں اس کے بدلے ۔۔۔ جاوید آفریدی نے حکومت کو بڑی آفر، کرکٹ شائقین کو بڑا سرپرائز دے دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کورونا وائرس کے باعث پی ایس ایل کے ناک آﺅٹ مرحلے کو ملتوی کر دیا ہے تاہم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے

رکھا ہے جس کے باعث معمولات زندگی معطل ہو کر رہ چکے ہیں اور کھیلوں کے میدان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر پی ایس ایل کے ناک آﺅٹ مرحلے کو سیمی فائنل میں تبدیل کیا گیا جس کے تحت ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کے درمیان کھیلا جانا تھا جبکہ دوسرا سیمی فائنل لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے مابین ہونا تھا۔تاہم کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر پی سی بی نے تمام سٹیک ہولڈرز اور فرنچائز مالکان کیساتھ مشاورت کے بعد ناک آﺅٹ مرحلہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ نجی خبر رساں ادارے ”92 نیوز“ نے انکشاف کیا ہے کہ جاوید آفریدی نے میچز ملتوی نہ کرنے پر زور دیا لیکن پی سی بی نے پرزور اسرار کے باوجود ناک آوٹ مرحلے کے میچز منسوخ کر دیئے۔رپورٹ کے مطابق پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کا موقف تھا کہ صرف 2 دن کے میچز باقی ہیں، اس لئے معاملے کو مزید لٹکانے کی بجائے سیمی فائنلز اور فائنل کا انعقاد کروا لینا ہی بہتر ہے لیکن پی سی بی نے ان کی بات نہ مانتے ہوئے ایونٹ کے آخری میچز ملتوی کر دئیے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ 2012 اور 2013 کے دوران پوری دنیا میں کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق کوروناوائرس ماضی میں بھی سامنے آچکا ہےپریل 2012 سے مئی 2013تک کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی مختلف لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق یہ کیسز مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں سامنے آئے تھے جن میں اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 40 کیسز میں سے20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ادارے کے مطابق یہ کیسز فرانس ، جرمنی اور برطانیہ میں بھی رپورٹ ہوئے تھے اور ان تمام کیسز کا مشرق وسطیٰ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق تھا۔فرانس اور جرمنی میں متاثر ہونے والے افراد نے خود کبھی مشرق وسطیٰ کا سفر نہیں کیاتھا تاہم ان کے قرابت داروہاں سے آئے تھے جن سے انہیں بھی یہ مرض لاحق ہوگیا۔کورونا وائرس کا آخری کیس دس مئی2013کو سامنے آیا تھا۔متاثرہونے والے انتالیس افراد کی تفصیلات کے مطابق اکتیس مرد تھے اور ان کی عمریں 24 سے 94سال تک تھیں۔ان تمام کیسز کی لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی اور مریضوں کو ہسپتال بھی منتقل ہونا پڑا۔بہت سے مریضوں میں یہی علامات بھی ظاہر ہوئیں جو ابھی ہیں تاہم اس وقت کچھ لوگوں کو ڈائیریا کی شکایات بھی ہوئی تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک مریض ایسا بھی تھا جس میں مذکورہ علامات نہیں تھیں تاہم بخار، جسم میں درد اور دست جیسی شکایا ت تھیں، اس کا نمونیہ بھی اتفاقی طور پر ریڈیوگرافی کے دوران سامنے آیاتھا۔عالمی ادارے کے مطابق ان چالیس میں سے بیس مریض ہلاک ہوگئے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.