میری دکان میں نہ جھاڑو ہے اور نہ چھلنی، دلچسپ تحریر

مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک حکایت بیان کرتے ہوئے نصیحت کرتے ہیں کہ : ” ایک بوڑھے میاں جو کوئی اسّی، نّوے کے پیٹے میں ہوں گے، ہاپنتے کانپتے ایک سنار کی دکان پر پہنچے، اور کہنے لگے :” ارے میاں زرگر …! تھوڑی دیر کے لیے مجھے اپنی ترازو دے دو، مجھے یہ سونا تولنا ہے ! “سنار نے جواب دیا :” بڑے میاں میں معذرت خواہ ہوں، میرے پاس چھلنی نہیں ہے …!

“بڑے میاں نے حیرت سے کہا :” یہ کیا مذاق ہے میں تجھ سے سونا تولنے والی ترازو مانگ رہا ہوں اور تو کہہ رہا ہے کہ میرے پاس چھلنی نہیں ہے۔واہ بھلے مانس! مجھے چھلنی نہیں ترازو درکار ہے، ترازو …! ” سنار نے کہا :” قبلہ وکعبہ میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں میری دکان میں جھاڑو بھی نہیں ہے …! ” بڑے میاں بھّنا کر بولے :” لاحول ولاقوة، یہ جھاڑو کہاں سے آگئی، بھئی مجھے تو ترازو چاہیے، اگر ممکن ہے تو مہربانی کرکے عنایت کر دو خوامخواہ بہرا بن کر الٹی سیدھی مت ہانکو …! “سنا ر نے کہا :” حضور میں نے آپ کی بات بڑی اچھی طرح سنی ہے، خدانخواستہ میں بہرا ہوں نہ دیوانہ کہ آپ زمین کی پوچھیں اور میں آسمان کی کہوں …! اصل بات پر شاید آپ نے غور ہی نہیں فرمایا، بندہ پرور …! آپ کے پاﺅں قبر میں لٹکے ہوئے ہیں، آپ خود سوکھ کر لکڑی ہو رہے ہیں، ہاتھوں اور گردن میں ماشاءاللہ رعشہ بھی ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے پاس جو سونا ہے، وہ بھی کچھ برادہ ہے اور کچھ چورا ہے، ٹھوس ڈلی نہیں ہے اس لیے یہ ضرور ہوگا کہ تولتے ہوئے آپ کا ہاتھ کانپے گا اور سونے کا برادہ زمین پر گر جائے گا پھر آپ فرمائش کریں گے کہ بھائی ذرا جھاڑو عنایت فرماﺅ تاکہ میں برادہ اکٹھا کروں۔ جب جھاڑو سے دھول، مٹی جمع کریں گے تب فرمائیں گے کہ اب چھلنی کی ضرورت ہے، تاکہ خاک چھان کر سونا الگ کر سکوں۔ میری دکان میں نہ جھاڑو ہے اور نہ چھلنی، اس لیے میں نے پہلے ہی آپ کے کام کا انجام دیکھ کر اپنا جواب آپ کی خدمت عالیہ میں عرض کردیا ہے، بہتر ہے آپ کسی اور سے ترازو مانگ لیجئے …! “مولانا رح فرماتے ہیں اے عزیز …! اس سنار سے دور اندیشی کا سبق حاصل کر جو شخص صرف آغاز پر نظر رکھتا ہے وہ بصارت سے محروم ہے اور جو انجام پر نگاہ رکھتا ہے وہ دوراندیش اور دانش مند ہے۔ ایسا شخص آخر میں کبھی شرمندہ نہیں ہوتا …!!

Sharing is caring!

Comments are closed.