محمد علی سے شادی کے بعد اداکارہ زیبا بیگم نے کسی اور اداکار کے ساتھ کام کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ، مگر کیوں ؟ دلچسپ وجہ جانیے

لاہور (انٹرویو : عنبرین فاطمہ) ماضی کی معروف اداکارہ زیبا بیگم کہتی ہیں کہ میں دو سال پہلے تک میں سنسر بورڈ کی چئیر پرسن تھی اس وقت سب فلمیں دیکھتی تھی لیکن ابھی کوئی حالیہ فلم نہیں دیکھی اور کوئی ایسی آئی بھی نہیں کہ جس کا میں تذکرہ کروں۔

سنسر بورڈ کی سابق چئیرپرسن نے مزید کہا کہ میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ آج کی بہت ساری فلموں میں ڈراموں کا رنگ نظر آتا ہے۔ یہ چیز ہر کسی کو سمجھ تو آتی ہے لیکن وہ وضاحت نہیں کر پاتا۔ میں سمجھتی ہوں کہ فلم پونے تین یا تین گھنٹے کی ہوتی ہے اس کی ٹیکنیک فاسٹ ہوتی ہے جبکہ ڈراموں کی ٹیکنیک سلو ہوتی ہے بس یہ چیز ڈائریکٹرز کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ایسے کردار کرنے سے منع کر دیتی تھی جن میں مجھے ولگر لباس زیب تن کرنا پڑتا اس کے علاوہ کوشش کیا کرتی تھی کہ زیادہ ناچ گانے والے کردار نہ کروں کیونکہ مجھے ڈانس آتا نہیں تھا۔جہاں تک پہلی فلم کے معاوضے کی بات ہے تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ پہلی فلم کا معاوضہ پانچ ہزار ملا۔ بہت عرصے تک تو مجھے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کتنا معاوضہ طلب کرنا ہے لیکن آہستہ آہستہ پتہ چلتا گیا۔ باقی میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں کبھی فلم انڈسٹری کا حصہ بنوں گی بس وہ کہتے ہیں نا کہ جو قسمت میں ہوتا ہے وہ مل کر رہتا ہے بس میرے ساتھ بھی یہی ہوا کہ میری قسمت میں لکھا ہوا تھا کہ میں اداکارہ بنوں ۔شادی کے بعد صرف محمد علی کے ساتھ کام کرنے کی شرط کیوں رکھی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا مجھے یہی طریقہ سمجھ میں آیا کیونکہ اگر میں ایسا نہ کرتی تو پھرجو ہمارے کام کی نوعیت ہے

اس میں تو ہم کئی کئی دن ایک دوسرے سے ملاقات ہی نہ کر پاتے۔ محمد علی نے مجھ پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی تھی میں اپنے کیرئیر کے فیصلے کرنے میں آزاد تھی۔ میرے شوہر میرے دوست بھی تھی ہم ایک دوسرے کے مشورے کے ساتھ ہر کام کیا کرتے تھے۔انہوں نے جب مجھے شادی کی آفر کی تو میں نے فورا ہاں کر دی میرے شوہر نے میری نامکمل ذات کو مکمل کیا، محبت سے میری جھولی اس طرح سے بھری کہ لفطوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ ان کی کمی آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ مجھ پہ بطور شوہر رعب نہیں جھاڑتے تھے، نوک جھونک ہوجایا کرتی تھی لیکن نوبت کبھی لڑائی جھگڑے تک نہیں پہنچی تھی۔ ہمارے تعلق کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک کی یادیں میرے دل میں سمائی ہوئی ہیں، انہی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہی ہوں۔فلم ’ارمان‘ نے میری زندگی بد ل کر رکھ دی۔ اس کی کامیابی نے مجھے راتوں رات سٹار بنا دیا۔ میری اس فلم کی اوپننگ فاطمہ جناح نے کی تھی جو کہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھی۔ خوشی ہے کہ ایک عرصے تک اس فلم اور اس کے گیتوں کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔بھارت میں بھی جا کر کام کیا۔ فلم کلرک میں کام کرنے کے حوالے سے ہمارے ساتھ کیا یادیں شیئر کریں گی، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس فلم میں کام کرنے کے حوالے سے اچھی اور بری دونوں یادداشتیں ہیں۔ اچھی یہ کہ بھارت میں ہماری خوب مہمان نوازی کی گئی۔ ہم دونوں میاں بیوی وہاں کام نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن منوج کمار نے پانچ برس تک ہماری خوشامدیں کیں آخر کار ہمیں ہاں کرنا پڑی۔بری یاداشتیں یہ ہیں کہ اس فلم سے ہمارا کردار کاٹ دیا گیا اور سکرین پر جو کام دکھایا گیا وہ دیکھنے والوں کےلیے قابل قبول نہیں تھا۔ منوج کمار کی اس گھٹیا حرکت کی وجہ سے ہمارے دل سے وہ اتر گیا اور فلم کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے تھا تیسرے ہی دن باکس آفس سے فلم اترنا منوج کمار کے منہ پر ایک زور دار تھپڑتھا جو اس نے ہمارے کرداروں کو کاٹ کر کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.