ایک حیران کن رپورٹ

لندن (ویب ڈیسک) آئس لینڈ اگرچہ بہت زیادہ خبروں کا موضوع نہیں رہا، لیکن یہاں صحت یابی کی غیر معمولی شرح نے طبّی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا۔3 لاکھ، 64 ہزار کی آبادی والے اس یورپی مُلک میں 15جون تک کل 1819کیسز سامنے آئے، جن میں سے 1801 صحت یاب ہوگئے اور 10اموات ہوئیں۔

اس صورتِ حال پر معروف اخبار’’ نیو یارکر‘‘ نے لکھا کہ’’ اس مُلک نے صرف مریضوں کو صحت یابی سے ہم کنار نہیں کیا، بلکہ عملی طور پر اپنی سرزمین سے اس وائرس کا خاتمہ بھی کر دیا۔‘‘ یہاں 28 مارچ کو پہلا مریض سامنے آنے کے بعد ماہرین ہوشیار ہو گئے تھے، پھر رفتہ رفتہ تعداد بڑھتی گئی، حتیٰ کہ پابندیوں سے پہلے ایک خاتون نے 200افراد کو یہ وائرس منتقل کیا، جنہیں قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔ آئس لینڈ نے سخت لاک ڈائون نافذ نہیں کیا۔ اس کا واحد کارنامہ، اپنی آبادی کے ہر شخص کا ٹیسٹ کر کے اُس کا ریکارڈ رکھنا تھا۔ جو مریض سامنے آئے، اُن کا بروقت علاج کیا گیا۔ آئس لینڈ کی کام یابی کا راز پبلک ہیلتھ اتھارٹیز کو قرار دیا جاتا ہے، جنہوں نے ایک منظّم پلان نافذ کیا، جس میں کسی سیاست دان کا دُور دُور تک عمل دخل نہیں تھا۔ کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹرز میں روزانہ ماہرینِ طب عوام کو مرض کے بارے میں بریفنگ دیتے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کُن اطلاعات کی تردید کرتے۔ مثلاً لوگوں کے ذہنوں میں یہ بِٹھا دیا گیا تھا کہ اگر وہ بلیچ پائوڈر پی لیں، تو کورونا اندر ہی مر جائے گا۔ آئس لینڈ کی آمدنی کا 40 فی صد حصّہ سیّاحت کا مرہونِ منت ہے۔ ان دنوں میں جب 20 لاکھ سیّاح آنا بند ہو گئے، تو حکومت نے عوام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے مُلک کی سیّاحت کریں۔ آئس لینڈ کے طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ’’اُنہیں جنوری 2020 ہی میں چین کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ مستقبل میں کیا آفت آنے والی ہے۔ چناں چہ فوراً تیاریاں شروع کردی گئیں۔ اسپتالوں میں ہیلتھ کیئر ورکرز، آلات اور بیڈز کی گنجائش کو بڑھایا گیا، لہٰذا جب وائرس آیا، تو ہم ذہنی اور عملی طور پر اس کے لیے بالکل تیار تھے۔ چناں چہ یہاں کورونا سے شرحِ اموات صرف 0.56 فی صد رہی، جو دنیا میں سب سے کم ہے۔‘‘ آئس لینڈ میں ماسک پہننا صرف ایسے لوگوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا، جنہیں کھانسی یا سانس کی تکلیف تھی، لیکن ایسے لوگوں کو گھروں یا اسپتالوں سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا، لہٰذا یہاں کوئی شخص ماسک پہنے کوئی نظر نہ آیا۔ آئس لینڈ کو یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ یہ دنیا کا دُور دراز، برف سے ڈھکا علاقہ ہے اور یہاں باقی ممالک کے مقابلے میں آمدورفت محدود ہے۔ ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ اگر آئس لینڈ نے فوری طور پر 20 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی، تعلیمی ادارے بند نہ کیے ہوتے اور کورونا آنے سے پہلے بھرپور تیاری نہ کی ہوتی، تو آج اس کی تعریف کرنے والا کوئی نہ ہوتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.