آئسولیشن وارڈ میں حوا کی بیٹی کیساتھ بعد میں کیا ہوا؟افسوسناک صورتحال

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہر کوئی پریشانی کا شکار ہے لوگ اچھے وقت کے لئے دن رات دعائیں مانگ رہے ہیں مگر بعض لوگ ایسی وباء میں بھی خدا کے خوف سے نہیں ڈر رہے اور اپنے مکروہ دھندے میں مشغول ہیں اب ظلم کی انتہا کی ایک اور کہانی سامنے آئی ہے۔

بھارت میں ڈاکٹر نے آئسو لیشن وارڈ میں موجود لڑکی کو بُرے فعل کا نشانہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق یوں تو بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آنا عام بات سمجھی جاتی ہے،لیکن ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کی لپیٹ میں ہے،ایسے میں بھارت میں انتہائی ظالم لوگ خواتین پر یہ ظلم کرنے سے باز نہیں آئے۔ بھارت کے ضلع گایا میں آئسو لیشن وارڈ میں 25 سالہ لڑکی کے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے۔متاثرہ لڑکی کو کورونا وائرس کے شبے میں آئسو لیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا،کچھ دن قیام اور مزید ٹیسٹوں کے بعد اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ لڑکی کورونا وائرس سے متاثرہ نہیں ہے۔تاہم افسوسناک طور پر لڑکی کا انتقال ہو گیا کیونکہ اسے اسقاط حمل کے عمل سے گزرنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا اور وہ مزید تکلیف نہیں سہہ پائی تھی۔لڑکی کی ساس نے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے ساتھ آئسولیشن وارڈ میں بُرا فعل کیا گیا ہے کیونکہ وہ اسپتال سے باہر آنے کے بعد صدمے کی حالت میں تھی اور اپنی آخری سانسوں میں اس نے بتایا کہ مجھے ایک ڈاکٹر نے بُرے فعل کا نشانہ بنایا ہے۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لی ہے جس کی مدد سے دو ڈاکٹرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.