میں کنجر ہوں اور میرا کام ہے اپنے لوگوں کو خوش کرنا ۔۔۔۔ ‘‘مشہور پاکستانی اداکارہ صبا قمر کے زبردست اور سنسنی خیز بیان نے پوری لالی ووڈ انڈسٹری کو حیران کر دیا

سوشل میڈیا پر شوبز ستاروں کی جہاں بے حد پذیرائی ہوتی ہے وہیں بسااوقات ان پر غیر ضروری تنقید بھی کی جاتی ہے وہیں انہیں ٹرول بھی کیا جاتا ہے۔ ٹرولنگ اور سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کو اداکارہ صبا قمر نے ایسا جواب دیا کہ ٹرولرز خود بھی گھبرا جائیں۔ادکار عمران عباس کے ساتھ

لائیو ویڈیو چیٹ میں ادکارہ صبا قمر نے کہا کہ “ہم تو بھائی کنجر ہیں ، ہمارا کام ہی آپ کو خوش کرنا ہے، آپ کو اس پر ہماراشکرگزار ہونا چاہیے”۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایسے لوگوں کی باتیں دل پر نہیں لیتیں۔انسٹا لائیو چیٹ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ میں کیوں اپنی توانائیاں ان غیر ضروری ٹرولرز پر صرف کروں؟اپنی گفتگو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔ انسان کو اس کی خواہش کے مطابق سب مل جائے تو بھی وہ سوچتا ہے اچھا اس سے آگے کیا ہوگا؟ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نواز شریف کی طلبی کا اشتہار ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے حوالے کردیا، جس میں نواز شریف کو 24 نومبر کو طلب کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نواز شریف کی طلبی کا اشتہار بنوا کر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے حوالے کردیا۔نوازشریف کی طلبی سے متعلق اشتہاری دستاویز5 صفحات پرمشتمل ہیں ،اشتہار میں گہا گیا ہے کہ نواز شریف سزا یافتہ ہیں ، نواز شریف 24 نومبر کو عدالت میں پیش ہوں جبکہ اشتہارمیں نواز شریف کی ایون فیلڈ ،العزیزیہ کیس میں سزا کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اشتہار میں نواز شریف کے ایون فیلڈ اور العزیزیہ کا الگ الگ حوالہ دیا گیا ہے۔رجسٹرار آفس نے کہا کرمنل پروسیجر 87 کے تحت کارروائی کریں گے، سارا معاملہ عدالتی احکامات کے عین مطابق کریں گے ، طلبی کا اشتہار دونوں اخبارات میں کواٹر پیج میں تشہیر کیا جائے گا، اشتہار پبلش ہونے کے بعد عدالتی احکامات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے عدالت نے 2 اخبارات میں نواز شریف کی طلبی کا اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور ڈپٹی اٹارنی جنرل آفس سے اشتہارات کی مد میں 60 ہزار روپے ہائی کورٹ رجسٹرارآفس کو مل گئے تھے۔خیال رہے اسلام آبادہائی کورٹ نے نواز شریف کے اشتہارجاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ 30 دن کے اندر اگر ملزم پیش نہیں ہوتے تو اشتہاری قرار دیا جائے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سربراہان مملکت کے اخراجات کے تعین کیلئے بل لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا قوم کی آمدن کومد نظر سربراہان کے اخراجات کا تعین ہونا چاہیے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی موجودہ سیاسی اور سلامتی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ملک میں مہنگائی کی صورت حال پرکابینہ میں کھل کربحث ہوئی۔بعض وزرا نے بڑھتی مہنگائی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا، مراد سعید،شیخ رشید، فیصل واوڈا اور دیگر وزرا نے مہنگائی کا معاملہ اٹھایا۔وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا مشاورت جاری ہےحکومت جلدایکشن پلان پر عمل شروع کرےگی۔فیصل واوڈا نے سابق اعلی ٰحکومتی شخصیات سے مراعات کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا سابق صدور،گورنر اور وزرائےاعلیٰ کودی گئی غیرضروری مراعات واپس لی جائیں، حکومت کفایت شعاری مہم پر عمل کر رہی ہے، سابق حکومتی شخصیات غیر ضروری مراعات کی مستحق نہیں.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *