اب کرونا مریضوں کو آئی سی یو اور وینٹی لیٹر جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘پاکستانی ڈاکٹر کے طریقہ علاج کو امریکا نے بھی تسلیم کر لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ساری دنیا میں کورونا وائرس اس تیزی سے پھیلا ہے کہ بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں وینٹی لیٹرزکم پڑ گئے تھے جبکہ کسی ملک کے پاس بھی اس مرض کا علاج نہیں ہے ہر طرف سے ہلاکتوں کی خبریں آ رہی ہیں جبکہ امریکی ادارے فوڈ ایند ڈرگ ایڈمنسٹریشن(ایف ڈی اے)نے پلازما سے متعلق پاکستانی ادارے کی تحقیق کو رجسٹرڈ کر لیاہے۔

پاکستان نے ایک اور اعزاز حاصل کر لیا، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز(این آئی بی ڈی)کی میڈیکل ریسرچ کا امریکا میں بھی اعتراف کر لیا گیا، ایف ڈی اے نے این آئی بی ڈی کی پیسیو امیونائزیشن  کو رجسٹرڈ کر لیا۔اس سلسلے میں این آئی بی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ این آئی بی ڈی نے ایف ڈی اے کو پلازما تکنیک رجسٹریشن کے لیے بھیجی تھی، ایف ڈی اے نے پلازما سےعلاج کا کلینکل ٹرائل پروٹوکول رجسٹرڈ کر لیا ہے، پلازما تکنیک پروٹوکول سے عالمی ادارہ صحت کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ کسی بھی تکینک کو مریضوں پر استعمال کرنے سے قبل منظور شدہ عالمی اور ملک کے متعلقہ اداروں سے منظوری اور رجسٹرڈ کرانا طبی ضابطہ اصول ہوتے ہیں، ملکی اور عالمی اداروں کی منظوری کے بعد ہی انسانوں پر تکنیک کا استعمال شروع کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہاکہ ہم نے کرونا کے صحت یاب افراد سے لیے گئے پلازما پر اپنی ریسرچ مکمل کر لی ہے، سندھ میں صحت یاب مریضوں کے پلازما میں کرونا وائرس نہیں ملا۔ یاد رہے کہ سندھ حکومت پلازما تکنیک سی علاج کی اجازت دے چکی ہے، اس طریقے سے چاروں صوبوں میں مریضوں کا علاج کیا جائے گا، ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا تھا کہ پلازما تکنیک سے کرونا مریضوں کو آئی سی یو اور وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‎

Sharing is caring!

Comments are closed.