یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق جارح مزاج بیٹسمین عمران نذیر کا نام پاکستانی کرکٹ میں اچھے الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔ عمران نذیر نے پاکستان کی جانب سے کرکٹ کھیلتے ہوئے عمران نذیر نے کئی بار شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عمران نذیر اب کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں رہے۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان قومی کرکٹٹیم راشد لطیف نے افسوس ناک انکشاف کیا کہ تین سال قبل ایک میچ کے دوران عمران نذیر کے سر پر گیند لگی تو انہی ایتھرائیسڈ ہو گیا اور اب وہ بیٹ بھی نہیں پکڑ سکتے، یعنی ان کے ہاتھ کی گرپ ہی نہیں ہوتی۔اس انجری کے بعد انہوں نے بحالی کیلئے سٹیرائیڈز استعمال کیں تو کافی موٹے ہو گئے اور قدرے بحالی کے باوجود بھی وہ کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں ہیں۔عمران نذیر اب انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں اور انہیں کرکٹ سکھاتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی ماہرین کے مطابق سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سورج کی تپش کے ساتھ ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہو سکے گا جبکہ امریکی محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر مطبوعہ معلومات پر بات نہیں کر سکتے۔ جس سے لوگ غلط اور غیر حقیقی نقطہ نظر قائم کریں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں بھی کورونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اب تک کورونا کی وجہ سے 40 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ 7 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد چوبیس لاکھ سے بڑھ گئی جب کہ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور چھ لاکھ پندرہ ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔دوسری جانب ووہان کی لیبارٹری کی تصویر سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔تفصیلات کے مطابق ۔ دنیا بھر میں 19 اپریل کی سہ پہر تک 23 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کرنے اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد انسانی زندگیوں کا خاتمہ کرنے والے کورونا وائرس کا آغاز ووہان سے دسمبر 2019 کے وسط میں ہوا تھا۔ کورونا وائرس کے شروع ہوتے ہی یہ افواہیں شروع ہوگئی تھیں کہ ممکنہ طور پر اس وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا گیا، مگر تاحال ایسے دعوے کرنے والوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں لیکن اب ووہان کی لیبارٹری کی تصویر سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق لیبارٹری میں کورونا سمیت 1500 اقسام کے وائرس رکھے گئے تھے۔ووہان کی لیبارٹری کی فرج کی سیل خراب نکلی تھی۔

یہ تصاویر چینی اخبار میں نومبر 2018 میں شائع کی گئی تھی۔ان تصاویر کو گزشتہ ماہ ٹویٹر پر بھی شیئر کیا گیا تھا تاہم بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٖغیر واضح طور پر کہا تھا کہ امریکی حکومت اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کیا واقعی کورونا وائرس چین کی کسی لبیارٹری میں تیار ہوا؟اسی حوالے سے امریکی نشریاتی اداروں سی این این اور فاکس نیوز نے اپنی رپورٹس میں امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر امریکی حکومتی عہدیداروں اور سائنسی ماہرین کو یقین ہے کہ کورونا لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا، تاہم اس باوجود امریکی حکومت نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے بھی اسی حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چین میں موجود امریکی سفارت خانے نے 2018 میں ہی امریکی محکمہ خارجہ کو بھیجے گئے پیغامات میں عندیہ دیا تھا کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ میں غیر معمولی تحقیقات ہو رہی ہیں اور وہاں پر وائرس سے بچنے کے سخت اقدامات بھی نہیں ہیںلیکن چینی حکام ایسے الزامات اور سازشی مفروضوں کو مسترد کرتے آئے ہیں اور اب ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.