کس کی تنخواہ بڑھے گی اور کس کی نہیں ؟ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے حکو مت پاکستان نے اعلان کر دیا

اسلام آبا د(ویب ڈیسک ) حکومت آئی ایم ایف کی ایک اور شرط ماننے کو تیار ہو گئی ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر سالانہ اضافہ ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔جس کے بعد ملازمین کے لیے بری خبر یہ ہے کہ دسمبر میں تنخواہوں پر سالانہ انکریمنٹ نہیں ملے گا۔مشیر برائے اصلاح عشرت حسین

نے سفارشات حکومت کو بھیج دی ہیں۔آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ تنخواہوں میں اضافے کے بجائے الاؤنسز میں معمولی اضافہ کیا جائے اس سال کے مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔سندھ حکومت کے علاوہ وفاقی حکومت اور باقی صوبوں کی حکومتوں نے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد مزید انکشافات سامنے آئے تھے جس میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ میں اضافے کا فائدہ ریٹائرمنٹ کے بعد نہیں ہوتا۔میڈیا نے جب اس حوالے سے ایک وفاقی سیکرٹری سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے ک ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دیا جانے لگا تو سرکاری خزانے پر بہت زیادہ بوجھ پڑ جائے گا، اس لئے اسے ریٹائرمنٹ کے بعد دیئے جانے والی رقم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے گز شتہ کئی سالوں کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیے گئے اضافے کو تاحال بنیادی تنخواہ میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسے ہر مالی سال کے بجٹ میں ایڈہاک الاؤنس کے طور شامل رکھا ہوا ہے، اس سے سرکاری ملازمین کو نوکری کے درمیان تو مالی فائدہ ملتا رہتا ہے، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اس کا کسی قسم کا کوئی مالی فائدہ نہیں ملتا۔ اس بات کا انکشاف اس سال کے مالی بجٹ میں کیا گیا ہے جس میں 2009 سے اب تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کئے جانے والا اضافہ ایڈ ہاک الاؤنس کے طور پر درج کیا گیا ہے۔س سال پیش کئے جانے والے صوبائی بجٹوں کی فہرست کا اندازہ لگایا جائے تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہر شعبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک ایڈہاک الاؤنس کی لمبی فہرستون کی شکل میں موجود ہیں.

Sharing is caring!

Comments are closed.