بے فکر ہو جاؤ ، میں ہوں ناں ۔۔۔۔ جے کے ٹی نے ٹائیگروں اور پاکستانیوں کو خوشخبری سنا دی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی پہلے بھی ہمارے ساتھ تھے،اب بھی ہیں۔ اتحادی حکومت آسان کام نہیں۔دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان کیساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ق

میں بے چینی صحیح ہے، ق لیگ کے ساتھ کئی مسائل ایسے ہیں جو حل نہیں ہوسکے۔ ان سیرابطے میں ہیں۔ ان کیساتھ انڈر اسٹینڈنگ ہے،وہ آن بورڈ ہے،کوئی ایشو نہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے تمام مسائل کو حل کر دیا ہے۔ چند تحفظات پر اتحادی جماعت کیساتھ بات چیت کریں گے۔جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ اتحاد کے حوالے سے ہماری سب سے زیادہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کیساتھ ہوئیں، حکومتی اتحادی پہلے بھی ہمارے ساتھ تھے، اب بھی ہیں اتحادی حکومت آسان کام نہیں، مسائل ہوتے رہتے ہیں۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات کیے گئے ہیں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی کی گئی ہے۔سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 93 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ مالی سال 2019-20 (دسمبر تک) گاڑیوں کی مرمت کی مد میں صرف71 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2016-17 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات

کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار حکومت کے دور میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی۔مالی سال 2018-19 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہمالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک) محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔سابق حکومت نے مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کرڈالے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کروڑ وں روپے کی بچت کی گئی۔مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں صرف 19 لاکھ روپے اداکیے گئے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ7کلب روڈ پر پردوں کی تبدیلی میں بھی کفایت شعاری سے کام لیاگیا۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.