ہمارے ہوٹل میں ٹھہریں، ایک سال کے دوران طلاق ہوگئی تو۔۔۔ ہوٹل نے انوکھی پیشکش کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سویڈن میں ہوٹل کے معروف گروپ’’کنٹری سائیڈ‘‘ نیپہلے سال میں ہی علیحدگی پر جوڑے کو رقم واپس کرنے کی پیشکش کردی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطا بقسویڈن میں ہوٹل کے معروف گروپ’’کنٹری سائیڈ‘‘ نے اپنی نئی پیش کش میں کہا ہے کہ اس کے کسی بھی مقام پر قیام کرنے والا شادی شدہ جوڑا اگر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے پہلے ہی سال علیحدہ ہو جاتا ہے۔

تو اسے معاوضہ واپس کر دیا جائے گا۔گروپ کی ترجمان اینا میڈسن کے مطابق اس پیش کش کا مقصدزیادہ سے زیادہ لوگوں کو وقت گزر جانے سے قبل تعلقات کی اہمیت باور کرانا ہے۔ہوٹل کو ادا شدہ معاوضے کی واپسی کے لیے شوہر اور بیوی کا ایک ہی بکنگ نمبر ہونا ضروری ہے۔ ایک سال کے اندر طلاق ہو جانے کی صورت میں دونوں افراد ہوٹل کو آگاہ کر دیں جس کے بعد انہیں ہوٹل میں دو راتوں کے قیام کے اخراجات واپس کر دیے جائیں گے۔اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان قانونی طور پر شادی کا معاہدہ ہو اور دونوں نے ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں قیام کیا ہو۔ہوٹل گروپ کی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش کش بہت سی شادیوں کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔سال 2014 میں سویڈن میں 47 ہزار شادیاں اور 24 ہزار طلاقیں ہوئیں۔ دوسری جانب سوشل میڈ یا صارفین مختلف پوسٹوں پر زور سے قہقہ مارنے کے لیے”ایل او ایل“کا بھی استعمال کرتے ہیں لیکن اکثر اوقات ”ایل او ایل“کا یہ اظہار صارف کے درست جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا ۔اس حوالے سے زمبابوے کے مفتیاعظم اسماعیل مینک نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔مائیکر و بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مفتی اسماعیل مینک نے لکھا کہ اگر لوگ ہنسے بغیر ہی ”ایل او ایل“کا استعمال کر رہے ہیں تو یقینا وہ پیار کے بغیر ہی ”آئی لو یو“کا استعمال بھی کر سکتے ہیں لہذا اس قسم کے اظہار سے پاگل مت بنیں۔زمبابوے کے مفتی اعظم کے اس بیان پر سوشل میڈ یا صارفین نے بھی ان کی حمایت کی ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.