دنیا کی امیر ترین خواتین کی فہرست میں شامل یہ خاتون کس شرمناک کام کی رسیا اور حمایتی ہیں ؟ جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

لندن (ویب ڈیسک) بی بی سی اپنی سیریز ’دی باس‘ میں کاروباری دنیا کی مختلف نامور شخصیات کے بارے میں رپورٹس شائع کرتا ہے۔ اس ہفتے ہم نے ایک کامیاب کاروباری شخصیت اور امریکہ کی ریئلیٹی ٹی وی سٹار لیزا وینڈرپمپ کا انتخاب کیا اور ان سے بات کی۔لیزا وینڈرپمپ کا کہنا ہے کہ

نامور صحافی ایان روز بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ کسی بھی دوسری شخصیت سے زیادہ مرتبہ ریئلیٹی ٹی وی شوز میں شرکت کر چکی ہیں۔انھوں نے ’دی ہاؤس وائفز آف بیورلی ہِلز‘ کی 340 قسطوں میں شرکت کی ہے اور اسے ان کے اپنے ریئلیٹی ٹی وی پروگرام ’وینڈرپمپ رولز‘ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو ممکن ہے کہ وہ صحیح ہی کہہ رہی ہوں۔امریکہ سے باہر شاید بہت سارے لوگ ان کو جانتے نہیں ہوں گے، لیکن یہ دونوں شوز ہی سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کیبل ٹیلی ویژن پروگرام کے اعزاز کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ریٹنگ کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔ان پروگراموں کی کامیابی کی وجہ سے برطانوی سٹار لیزا امریکی میڈیا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ لیکن اپنی مصروفیت کے ساتھ ساتھ 58 برس کی سیلیبریٹی اور ان کے چوہتّر برس کے شوہر کین ٹوڈ کی اپنے ریسٹورانوں اور ایک پراپرٹی امپائر چلاتے ہیں۔جب میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا آپ کی اس وقت مالی حیثیت ساڑھے سات کروڑ ڈالرز ہے تو انھوں نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ اتنی تو ہوگی۔‘سنہ 1960 میں لندن میں پیدا ہونے والی لیزا کا غیر معمولی خاندانی نام ہی ان کا اصل نام ہے، یہ اصل میں ولیندیزی تعلق ظاہر کرتا ہے۔وہ اور ان کے خاوند نے اتنی ساری دولت پچھلے سینتیس برسوں میں بنائی ہے۔ان دونوں کی ملاقات لندن میں ہوئی تھی۔ اُس وقت وہ 21 برس کی تھیں اور کین 37 برس کے۔ وہ ایک اداکارہ تھیں اور وہ ایک نائٹ کلب کا مالک تھا۔

ملاقات کے چھ ہفتوں کے اندر ہی ان کی منگنی ہوگئی اور تین ماہ بعد انھوں نے شادی کر لی۔اس سے پہلے کہ وہ لندن کے ٹرینڈی علاقے سوہو میں ریسٹوران اور مہ خانوں کے مالک بنتے وہ جلد ہی پراپرٹیوں کی خرید و فروخت کے کاروبار میں لگ گئے۔ ان میں لندن کے ہم جنس پرستوں کے معروف مہ خانے بھی ہیں جن کے وہ مالک ہیں جنھیں انھوں نے نوے کی دہائی میں خریدا۔لیکن بعد میں انھوں نے لندن میں شروع کے دور میں خریدی گئی پراپرٹی فروخت کردی۔ اور اب یہ امریکی ریاست کیلیفورنیا اور نیویڈا میں ریسٹورانٹس اور مہ خانوں کی چین کے مالک ہیں۔ وہ سنہ 2005 میں لندن سے لاس اینجلیز منتقل ہو گئے تھے۔لیزا کو اُس وقت بہت شہرت ملی جب ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ سنہ 2010 میں پہلی مرتبہ نشر ہوا۔ اس کے بعد سے اُس نے سوشل میڈیا پر اپنے موجودگی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اُن کے ٹوئٹر پر اٹھارہ لاکھ فالوؤرز ہیں اور چوبیس لاکھ انسٹاگرام پر۔وہ کہتی ہیں کہ ’میں نو برس سے ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ میں شرکت کرتی آ رہی ہوں۔ ‘اور جب میں سامنے آئی تو اُس وقت ٹویٹر اور دوسرے سوشل میڈیا کا تو آغاز ہوا تھا اور میرے خیال میں اُس نے ساری صورتِ حال بدل کر رکھ دی۔‘وہ کہتی ہیں کہ ریسٹورانٹ کو کامیابی کے ساتھ چلانا ایک کافی مشکل کام ہے اور وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ان کا سٹاف گاہکوں کے سات اتنی ہی خوش اخلاقی اور اتنی ہی محبت کے ساتھ پیش آئے جتنا کہ ممکن ہو۔ ’میزبانی کی اس صنعت میں آپ کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہونی چاہئیے۔آپ ہر وقت پیار اور فراخدلی کے ساتھ ملیں۔‘لیزا اور کین لاس اینجلیز میں اس وقت چار ریسٹورانٹوں کے مالک ہیں۔ اور وہ کہتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ ’میں ہال میں جا کر کسی بھی چیز کو چیک سکتی ہوں اور اگر مجھے کوئی نقص نظر آئے تو میں سٹاف کے منہ پر اسے کہہ دیتی ہوں۔ اگر میں محسوس کروں تو میں موسیقی کی آواز کم یا زیادہ کردیتی ہوں اور اسی طرح روشنی تیز یا مدھم کردیتی ہوں۔‘گزشتہ چند برسوں سے وینڈرپمپ امپائر، جو کہ اب ایک فیملی بزنس ہے، دو سمتوں میں پھیل رہا ہے۔ان کی بیٹی پنڈورا اور اس کا شوہر جیسن، جن کی محبت کے دنوں کی کہانی اور پھر شادی کی تقریب ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ میں آتی رہی ہے، وہ وینڈرپمپ روز وائین کے کاروبار کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ اور لیزا گھریلو اور پالتو جانوروں اور پرندوں کے سامان کا بھی ایک کاروبار چلارہی ہیں۔وہ اپنی شہرت کو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ وہ خودکشیوں کے خطرات کے بارے میں بھی آگاہی دیتی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی نے سنہ 2018 میں خود کشی کرلی تھی۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.