(ن) لیگ اور حکومت کے درمیان ڈیل تو ہوئی ہے مگر کن شرائط پر ۔۔۔۔؟ سہیل وڑائچ نے اندر کی کہانی بیان کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) معروف تجزیہ کارسہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی توسیع پہلے صرف ایک پارٹی کے ہاتھوں ہونی تھی مگر اب ساری پارلیمنٹ نے کی ہے ،اب آرمی چیف بھی ایک سیاسی جماعت کوسپورٹ دیتے ہوئے ہچکچائیں گے،ن لیگ کے ساتھ یہی ڈیل ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت کو پہلے

والی سپورٹ حاصل نہیں رہے گی ۔جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگوکرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ پہلے آرمی چیف کی توسیع ایک پارٹی نے کرنی تھی لیکن اب ساری پارلیمنٹ نے کی ہے ،اب آرمی چیف بھی ایک سیاسی جماعت کوسپورٹ دیتے ہوئے ہچکچائیں گے ، اس ترمیم سے سیاسی منظر نامہ بدل جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ا س ترمیم سے اپوزیشن کے لئے سپس زیادہ ہوجائے گی اورحکومت کیلئے کم ہوجائیگی ۔ سہیل وڑائچ کا کہناتھا کہ آخر کیوں ن لیگ نے آرمی چیف کی غیر مشروط حمایت کی ہے ، ایک تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ملک اور قوم کے ساتھ اتنے مخلص ہوں لیکن دوسری طرف ماضی تودیکھا جائے تو ایسا نہیں لگتا ۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ن لیگ کے ساتھ یہی ڈیل ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت کو پہلے والی سپورٹ حاصل نہیں رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کوچلنا چاہئے کیونکہ اگر حکومت کوہٹایا گیا اورکوئی عبوری حکومت لائی گئی تو وہ بھی اتنی آئیڈل نہیں ہوگی ۔ا س لئے حکومت کوبھی چاہئے کہ اپنی کارکردگی پر توجہ دے ۔ خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ہفتے طلب کیے گئے کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کے بعض ارکان نے کہا تھا کہ انھیں بل کی منظوری کے لیے ووٹنگ کا نہیں کہا گیا تھا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو فیصلہ دیا تھا کہ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے میں توسیع سے متعلق قانون سازی کرے۔ جس کے بعد آرمی ایکٹ کے احکامات میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صدر مملکت کو بااختیار بنایا جائے کہ وہ وزیراعظم کے مشورے پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت اور اس حوالے سے قیود و شرائط پر عمل کر سکیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.