کورونا وائرس، پاکستان میں مریضوں کی کتنے فیصد تعداد خواتین اور کتنے فیصد حضرات پرمشتمل ہے؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے 4183 مریض سامنے آچکے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد مردوں کی ہے۔سینئر صحافی عمر قریشی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی زیادہ تعداد مردوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں کُل مریضوں کا 71 اعشاریہ 9 فیصد حصہ حضرات پر

مشتمل ہے جبکہ 28 اعشاریہ ایک فیصد خواتین اس مرض کا شکار ہوئی ہیں۔کالم نویس سکندر علی نے عمر قریشی کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ خواتین کا نظام مدافعت مردوں کی نسبت زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور وہ اس طرح کی بیماریوں کا کم نشانہ بنتی ہیں۔علی میر نے کہا کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مردوں میں زیادہ تعداد 20 سے 29 سال کے لڑکوں کی ہے جن کو گھر بیٹھتے موت آتی ہے۔ایک صارف نے کہا کہ یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک جیسا ہی معاملہ ہے کہ خواتین کی کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت زیادہ ہے۔ خواتین کا گھروں سے باہر نکلنے کا فارمولہ پاکستان میں تو اپلائی ہوسکتا ہے لیکن امریکہ اور یورپ کی عورت بھی مرد کے جتنا ہی گھر سے باہر نکلتی ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابقکورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے لیکن بہت کم لوگ ہی ایسے ہیں جو چین سے گھروں میں بیٹھ رہے ہیں۔موبی لنک جاز کی جانب سے ایک لاک ڈاؤن پر عملدرامد کے حوالے سے ایک آن لائن سروے کرایا گیا ہے جس میں حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔جاز کے سروے کے مطابق پاکستان میں 33 فیصد لوگ ایسے ہیں جو لاک ڈاؤن کے دوران بالکل بھی گھروں سے باہر نہیں نکل رہے جبکہ 10 فیصد افراد ہفتے میں ایک بار سے بھی کم گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔ ہفتے میں ایک بار گھر سے باہر نکلنے والے افراد کی تعداد 14 فیصد ، 2 سے 5 دن میں 11 فیصد ، 2 دن میں 16 فیصد اور 16 فیصد ہی روزانہ گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔سروے میں لوگوں سے ان کے گھر سے باہر نکلنے کی وجہ پوچھی گئی تو 77 فیصد نے کہا کہ وہ گھریلو اشیاء کی خریداری کیلئے باہر جاتے ہیں۔ 49 فیصد لوگ ادویات لینے، 15 فیصد لوگ دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کیلئے گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.