دنیا میں کورونا وائرس اس لیے پھیلا کیونکہ چین نے ۔۔۔“امریکی خفیہ ایجنسی وہ حقائق سامنے لے آئی جس کا پوری دنیا کو بے صبری سے انتظار تھا

واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے کورونا سے متعلق بہت سے حقائق کو سامنے نہ لا کر دنیا کو گمراہ کیا جس کے نتیجے میں وائرس کا پھیلاؤ بڑھ گیا اور یہ ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر گیا۔امریکی چینل فوکس نیوز پر نشر ہونے والی رپورٹ

کے مطابق چین نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کورونا کے مریضوں اور اس سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کو چھپایا۔ وائٹ ہاوس کو بھیجی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایاگیا کہ گذشتہ ہفتے وائٹ ہاوس کو خبردار کر دیا تھا کہ کورونا کے حوالے سے بیجنگ حکومت کے اعداد و شمار فرضی ہیں،متاثرہ افراد کی تعداد کے اظہار میں کمی کے بقیہ دنیا پر مرتب ہونے والے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کی عہدے دار ڈیبورا بوریکس کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور نتائج کے اثرات اب اٹلی اور فرانس پر منعکس ہو رہے ہیں۔کورونا وائرس کے آغاز کے وقت سے ہی چین نے متعلقہ معلومات پر پردہ ڈالا۔ اس دوران ان ناقدین اور طبیبوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے خطرے کی گھنٹی بجانے کی کوشش کی۔حالیہ ہفتوں میں چین نے عالمی سطح پر اپنی تصویر بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔ چین نے اپنی معیشت کا پھیہ دوبارہ سے چلانے کی کوشش کی۔ اس نے کرونا سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ممالک کو متعلقہ لوازمات فروخت کیے۔فوکس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے جاسوسی کی روک تھام سے متعلق امور کے ماہر گریگ بارباچیا نے کہا کہ نشانہ بننے والے کا کردار ادا کرنے سے بہتر ایک ہی چیز ہے اور وہ یہ کہ خود کو ہیرو کے طور پر ظاہر کیا جائے،چین نے کورونا وائرس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے پروپیگنڈے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے عالمی ادارہ صحت کو کروڑوں ڈالر پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے عوض چین نے اپنے لیے کامیابی کے تمغے حاصل کر لیے۔بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کوویڈ – 19 وائرس کی روک تھام کے لیے کوششوں میں چین کی شرکت کو سراہا گیا۔ رپورٹ میں اس بات پر روشنی نہیں ڈالی گئی کہ چینیوں نے اس وائرس کے پہلے کیس کے بارے میں اس وقت تک نہیں بتایا جب تک وہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں ہو گئے۔بعد ازاں سامنے آنے والی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا کہ کرونا کے بارے میں آگاہ کرنے سے دو ماہ قبل ہی چین کو اس مہلک وائرس کے خطرات کا علم ہو چکا تھا۔ اگر چین صورت حال کو واضح طور پر سامنے لے آتا تو COVID-19 وائرس کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.