افغانستان بڑی مشکل میں‌پھنس گیا …. بڑی تعداد لقمہ اجل بن گئیں‌

کابل (ویب ڈیسک ) افغانستان میں جاری خشک سالی کے باعث شمالی صوبہ بلخ کے چرواہے اپنے جانوروں کو ذبح کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال مزید خراب ہونے کاخدشہ ہے ۔ افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے حالانکہ یہاںسے دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں

کے اخراج کا صرف 0.1 فیصد پیدا ہوتا ہے جبکہ افغان کسان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی نہیں رکھتے۔مویشیوں کے تاجر میرزا سمیت مقامی لوگوں نے کہا کہ انہوں نے ایسی صورتحال کم ازکم 50 سال کے دوران پہلی بار دیکھی ہے۔ 65 سالہ نور الدین نے بتایا کہ چارہ نہ ملنے پر اس کی 100 بھیڑیں اس حالت تک پہنچ گئیں کہ اسے ان بھیڑوں کو کتوں کی خوراک بنانا پڑا کیونکہ ان کا گوشت اس قابل نہیں رہا تھا کہ اسے کھایا جاتا۔اس نے بتایا کہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے جانوروں کی بڑی تعداد پہاڑوں اور صحرائوں میں لقمہ اجل بن گئیں۔19سالہ عارف نے بتایا کہ ہم اب جانور خریدنے کے متحمل نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق سائنس دانوں نے افغانستان میں آئندہ 4 دہائیوں کے دوران 1999ء کے مقابلے میں بارش میں کمی اور اوسط درجہ حرارت میں 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق 80 فیصد افغان شہریوں کی معیشت کاشتکاری اور گلہ بانی سے وابستہ ہے، خشک سالی کو معمولی سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا گیا تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جائے گی۔اقوام متحدہ نے کہاکہ افغانستان میں نصف سے زائد دیہی آبادی کو اب بھی غذائی قلت کا سامنا ہے ۔ امریکی یونیورسٹی آف نوٹری ڈیم کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی رینکنگ میں افغانستان کا 181 میں سے 173 نمبر ہے۔ مزار شریف کے باہر سینکڑوں بے گھر خاندان اقوام متحدہ کے فراہم کردہ خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور انہیں ایک بڑے ٹینک سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ صوبہ فاریاب کی 35 سالہ شمائل نے بتایا کہ وہ اون مہنگی ہونے کی وجہ سے اب قالین بنانے کا کام نہیں کر سکتی اور مجبوراً خشک سالی سے بچنے کے لئے اس کیمپ میں آئی ہے۔ واضح رہے کہ 19 امریکی ڈالر میں فروخت ہونے والی ایک کلو گرام اون کی قیمت اب 31 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.