ایک حیرت انگیز مگر معلوماتی تحریر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت میں جج جب کسی ملزم کو ذمہ دار قرار دے کر تختہ دار پر لٹکانے کی سزا دینے کا فیصلہ دیتا ہے تو فیصلہ تحریر کرتے ہوئے اپنے پین کی نب بھی توڑ دیتا ہے، جج ایسا کیوں کرتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے معروف جوابات ہم یہاں قارئین کی دلچسپی کیلئے

تحریر کرنے جا رہے ہیں۔مجرم کو سزا سنانے کے بعد جج کی جانب سے پین کی نب توڑنے کارواج بھارت میں آج بھی قائم ہے جہاں آج بھی عدالت میں تختہ دار پر چڑھانے کا فیصلہ دینے کے بعد جج کی جانب سے پین کی نب توڑ دی جاتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راج سے شروع ہونے والی ججوں کی اس روایت کی کئی توجیہات پیش کی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ زبان زدعام یہ روایت ہے کہ جج کی جانب سے اس سزا کے بعد پین کی نب اس لیے توڑی جاتی ہے کہ وہ پین جوکسی کی موت کی وجہ بنےاب وہ پین کسی اوردوسرے کام کےلیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری معروف توجیہہ یہ ہے کہ جج اس لئے پین کی نب توڑ دیتا ہے کہ تاکہ اگر وہ کسی کو یہ سزا سنادے اور لکھ دے تو پھر کوئی اس سزا کو تبدیل نہ کرسکے اور نہ ہی وہ اپنے حکم کی نظرثانی یا اس فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرسکے، اگر وہ چاہے بھی توبھی نہ کر سکے۔ عام روایت یہ بھی ہے کہ جب جج یہ سزا کسی کو سناتا ہے تو جج کی جانب سے پین کی نب توڑنا اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور آخری وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جج پین کی نب اس لئے توڑ دیتا ہے کہ وہ کسی کو یہ سزا دینے کے فیصلے پر نادم نہ ہو اور اسے کوئی پچھتاوا نہ ہو اس لئے وہ اس پین کی نب توڑ کر اسے ناقابل استعمال بنا کر اپنے دور کر دیتا ہے تاکہ یہ فیصلہ اسے کچھ یاد نہ دلائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.