بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد ہمارے کپتان عمران خان کے بارے میں کیا امید دل میں لیے بیٹھی ہیں ؟ حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں ہر وقت کرپشن کا رونا رو کر اور ستر سال کی بربادیوں کی داستان سنا سنا کر اپنی کارکردگی چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومت کم از کم ٹھوس معاشی پالیسی تو سامنے لائے۔ پچھلے سال ستمبر میں بنگلہ دیشی میڈیا کو بیان دیتے ہوئے حسینہ واجد نے کہا تھا کہ

نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بنگلہ دیش دو طرفہ تعلقات میں تلخی کے باوجود پاکستان کی مدد کرنے پر تیار ہے۔ اگر پاکستان ہم سے مدد کی درخواست کرے گا تو ہم اپنے تجربات کے حوالے سے پاکستانی عوام کی فلاح اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے کے مقاصد کی خاطر، ان کی بھرپور مدد کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کے متعلق حسینہ واجد نے کہا تھا کہ عمران خان کھلاڑی ہیں اور انہوں نے کئی چھکے مارے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ گیم آف پاور میں کتنے چھکے ماریں گے‘ انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اقتدار حاصل کیا ہے۔ اسی ہفتے ورلڈ اکنامک فورم نے عالمی مسابقتی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی معیشت جنوبی ایشیا میں دیگر ممالک کے مقابلے میں تنزلی کا شکار رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان ایک سال کے دوران مزید تین درجے نیچے چلا گیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جاری کردہ عالمی مسابقتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فہرست میں خطے کے دیگر ممالک میں بھارت 68ویں، سری لنکا 84ویں، بنگلہ دیش 105ویں، نیپال 108ویں جبکہ پاکستان دنیا بھر میں مجموعی طور پر 110ویں نمبر پر رہا۔ رپورٹ کے مطابق اداروں کی کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں 107ویں نمبر پر رہا ہے۔رپورٹ میں دلچسپ انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ ملک میں ایک سال کے دوران کرپشن کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ اس وقت پاکستان دنیا کے

175 ممالک کی فہرست میں کرپشن کے اعتبار سے 117ویں نمبر پر ہے۔ عالمی مسابقتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے دوران انفراسٹرکچر کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے جبکہ اس اہم معاملے پر پاکستان دنیا بھر میں 105ویں نمبر پر ہے۔ اس شعبے میں سب سے زیادہ کمی ملک میں ریلوے نیٹ ورک کی کثافت میں بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ترقی آذربائیجان نے کی ہے اور ایک سال کے دوران وہ عالمی مسابقت میں 11 درجے اوپر آیا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی اس رپورٹ کو درست مان لیا جائے تو کرپشن ختم کر کے ملکی معیشت بہتر بنانے کے دعووں کے ساتھ حکومت بنانے والی پارٹی اپنے پہلی ترجیح میں بھی ناکام دکھائی دی۔ بیرون ملک پڑے اربوں روپے واپس لا کر معیشت بہتر بنانے کا خواب دکھانے والے اب خود چھپتے پھر رہے ہیں۔ ایک وزیر الیکشن سے پہلے دو سو ارب ڈالر واپس لا کر سو ارب ڈالر عالمی معاشی اداروں کے منہ پر مارنے کا دعویٰ کرتے تھے، اب پتہ چلا کہ بیرون ملک ڈالروں کا تخمینہ افسانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔معاشی دعوے اور اندازے غلط ثابت ہو چکے، وزیر اعظم عمران خان دسیوں بار ”رائٹ مین فار دا رائٹ جاب‘‘ کا منتر سناتے رہے، اگر اب بھی اس پر عمل کر لیں تو بہت کچھ بہتر ہو جائے گا۔ کراچی سے ایتھوپیا منتقل ہونے والے کاروباری اسی صورت سرمایہ واپس لائیں گے جب پاکستان بھی ایتھوپیا جیسی ٹیکس اصلاحات کر کے بزنس فرینڈلی ملک بن جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.