پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ، عمران خان بھی میدان میں آگئے، اپنی معاشی ٹیم کو کیا ہدایات جاری کر دیں؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے پر وزیراعظم عمران خان نے معاشی ٹیم سے رابطہ کرلیا، وزیراعظم نے وفاقی وزیر عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر کو ہنگامی پریس کانفرنس کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔نجی ٹی وی 92 نیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی

لٹر تک کے تاریخی اضافے پر عوام کی طرف سے آنے والے ردعمل پر وزیراعظم عمران خان بھی متحرک ہو گئے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے معاشی ٹیم سے رابطہ کیا ہے،وزیراعظم نے عمرایوب اورندیم بابرکو ٹاسک سونپ دیا،وزیراعظم نے وفاقی وزیر اورمعاون خصوصی کو ہنگامی پریس کانفرنس کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قیمتوں میں اضافہ کیوں کیاگیا؟عوام کو وجوہات سے آگاہ کریں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو زیادہ ہائی لائٹ کریں،ندیم بابرکو خطے کے دوسرے ممالک سے تقابلی جائزہ رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یادرہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب کورونا کی وجہ سے معاشی مسائل سے دوچار عوام کیلئے اور بری خبر آ گئی وزیراعظم عمران خان کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی سمری منظور کرلی جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 25 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ڈیزل کی قیمت 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 101روپے46پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 23روپے 50پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 59روپے 6 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84پیسے فی

لیٹراضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 55روپے 98 پیسے مقرر ی گئی ہے۔عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم اس بار نئی قیمتوں کا اطلاقجمعہ کی رات 12 بجے سے ہی ہوگیاذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اوگرا کی سمری کے بغیر ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے لئے مہنگائی کے مزید دروازے کھول دئیے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خلاف معمول یکم جولائی کی بجائے تین دن پہلے ہی کردیا گیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 25روپے فی لیٹر اضافہ کرتے وقت خلاف معمول اور خلاف توقع اوگرا کی ماہانہ سمری کا بھی انتظار نہیں کیا۔قبل ازیں اوگرا ہر ماہ کے اختتام پر یکم تاریخ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافے سے متعلق سمری حکومت کو بھجواتی ہے جس پر وفاقی حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا یا تکلیف دی جائے گی۔۔گزشتہ ماہ حکومت نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے تک کمی کی تھی۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے باوجود اس کی عدم دست یابی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزارت پیٹرولیم و توانائی نے مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرول کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی تحقیقات کا آغاز کی بھی کیا۔علاوہ ازیں حکومت نے گزشتہ ماہ بھی عالمی سطح پر پیٹرولیم کی کم ہونے والی قیمتوں کا پورا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا تھا اور پیٹرولیم

لیوی میں 6 روپے اضافہ کرکے اسے زیادہ سے زیادہ سطح تک لے گئی تھی۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ماہ کے آخری دن تبدیلی کی جاتی ہے اور اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے ان قیمتوں کا اطلاق کیا جاتا ہے تاہم حالیہ اضافہ معمول کے بر خلاف مہینے کے اختتام سے قبل ہی لاگو کردیا گیا ہے۔ادھر اپوزیشن جماعتون پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں مین اضافے کو مسترد کر دیا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم قیمتوں میں ملکی تاریخ کا بلند ترین33 فیصد اضافہ دراصل ”چینی سکینڈل پارٹ ٹو‘ ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت کیاگیا جب ملک میں قلت ہے، حکومتی سرپرستی میں چینی کے بعد پٹرول مافیا کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دیاگیا، چینی کے بعد پٹرول مافیا جیت گیا، اور عوام ہار گئے۔لیگی صدر کا کہنا تھا کہ یہ حکومت مافیاز کی سب سے بڑی حمایتی ثابت ہوئی، پٹرول کے معاملے بھی چینی چوری والی واردات دوہرائی گئی، پی ٹی آئی حکومت نے قوم کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا۔ 75 روپے قیمت کی تو پٹرول مارکیٹ سے غائب ہوگیا، کوئی خرید نہ سکا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کے عوام کی بہتری اور احساس کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے، مہنگائی کا سونامی غریبوں کو کھاجائے گا، ثابت ہوا کہ یہ ظالموں، بے احساسوں اور نااہلوں کی حکومت ہے، ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ناکافی ریلیف کی عوام سے سود سمیت وصولی شروع کردی،

کورونا کی دلدل میں دھنسی بے چاری قوم پر پٹرولیم قیمتوں میں تاریخی اضافے کا بم پھینک دیاگیا، حکومت نے بجٹ سے پہلے ہی منی بجٹ دے دیا ہے۔لیگی صدر کا مزید کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ثبوت ہے، حکومت چاہتی ہی نہیں کہ معیشت چلے، عوام کا چولہا جلے، ٹیکس وصولیوں میں بدترین ناکامی، تاریخی بلند ترین قرض، معیشت تباہ،ترقی کی شرح صفرہو چکی۔دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کو مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مزید ریلیف دینے کے وقت پیٹرول مہنگا کرنا غریب دشمنی ہے، تاریخی اضافہ کرنے والے ماضی میں معمولی اضافوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر عمران خان نااہلی کی وجہ سے ڈوبتی معیشت کو سہارا نہیں دے سکتے، پٹرول سستا کروا کر ذخیرہ کروایا اور پھر مہنگا کرکے عمران خان نے مافیا کو فائدہ پہنچایا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو عام آدمی کی کوئی فکر نہیں، جب پیٹرول سستا کیا تو قلت پیدا کی گئی اور کم قیمتوں کے ثمرات بھی عوام تک نہ پہنچ سکے، پیٹرول سستا ہونے سے کچھ سستا نہیں ہوا تھا مگر مہنگا ہونے سے مزید مہنگائی ضرور ہوگی، یہی نیا پاکستان ہے۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ابھی بجٹ منظور بھی نہیں ہوا اور حکومت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی کا کوڑا برسا دیا۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں چند دن کی کمی اب عوام سے سود کے ساتھ موصول کی جائے گی، مافیا کو لگام ڈالنے کہ دعوے کرنے والا مافیا کے سامنے بے بس ہوگئے۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے پورے ملک کو بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتی ہے، اگر قیمتیں بین الاقوامی قیمتوں کے حساب سے مقرر نہ کی گئیں تو جماعت اسلامی احتجاج کرے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.