پاکستانی روپیہ تگڑا ہو گیا ، ڈالر کو ایک بار پھر پٹخ ڈالا امریکی کرنسی کی قیمت کتنی گر گئی، آپ بھی جانیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر کمی واقع ہو گئی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور آج ایک بار پھر ڈالر کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی ۔ تفصیلات کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی

قدر میں 18پیسے کی کمی واقع ہو گئی ہے۔کاروبارکے اختتام پر ڈالر کی قدر 164 روپے 32 پیسے رہی۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 30 پیسے کم ہو کر 164 روپے 50 پیسے ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے ۔ انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 18پیسے کی کمی واقع ہو گئی ہے۔کاروبارکے اختتام پر ڈالر کی قدر 164 روپے 32 پیسے رہی۔ دوسری جانب دفاعی تجزیہ کار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ میں نے نوا ز شریف کی تقریر سنی ہے۔بلکہ نواز شریف کی تقریر سب نے سنی۔نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ فوج نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ظفر ہلالی نے مزید کہا کہ جو بھی حلف کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کی سزا موت ہے۔تو ایک آدمی کھڑے ہو کر کہہ رہا ہے کہ آپ کے آرمی چیف اور افسر نے حلف کی خلاف ورزی کی ہے،اور پھر پوچھا جا رہا ہے کہ یہ اینٹی سٹیٹ نہیں ہے۔نواز شریف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی جس کی سزا موت ہے۔ نواز شریف یہ نہیں کہہ رہے کہ انہوں نے میری جیب کاٹی ہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔دوسری بات یہ کہ ہندوستان سے وفد آیا جو ہوٹل میں ٹھہرا جنہوں نے حسین نواز سے ملاقات کی،وہ نواز شریف کو بھی ملے۔اگر نواز شریف کو

بھارت کا نیشنل سیکیورٹی کا ایڈوائرز اور وفد خفیہ طور پر ملا ہے تو مجھے اور کوئی ثبوت نہیں چاہئیے کہ انہوں نے وہاں کیا باتیں کیں۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ظفر ہلالی نے مزید کہا کہ اس حکومت کے خلاف ایک سازش شروع ہوچکی ہے نہ صرف حکومت بلکہ کچھ حد تک اسٹیبلشمنٹ اور سی پیک کے خلاف بھی سازش ہوئی ، علاقائی محاذ پر مولانا فضل الرحمان کو ٹاسک دیا گیا ہے جو 30 سے 40 ہزار طالب علم نکال سکتے ہیں یہ ان کی اسٹریٹ پاور ہے جس کو وہ استعمال کرنا چاہتے ہیں اسی لیے ان کو پی ڈی ایم کا سربراہ بھی بنا دیا ، علاقائی محاذ وہ ہے جس میں مولانا فضل الرحمان اور دوسری جماعتیں شامل ہیں لیکن ایک بین الاقوامی محاذ بھی ہے جس سے ان کو سپورٹ مل رہی ہے، اس میں ہمارے روایتی دشمن بھارت ، اسرائیل ، امریکا تو ہیں لیکن ایک ایسا ملک جو ہمارا دوست ہواکرتا تھا اب خفا ہے وہ بھی اس میں شامل ہے ، ان کو فنڈنگ وہاں سے آئے گی۔تجزیہ کار ظفر ہلالی نے انکشاف کیا کہ ان ممالک کا مقصد یہ ہے کہ مظاہرے اور تحریک کے ذریعے ایک قومی حکومت وجود میں آئے ، اس گورنمنٹ کا بھی حصہ ہوگا اگلی حکومت میں، لیکن عمران خان صاحب کا نام و نشان نہیں ہوگا ، یہ ان کا کھیل ہے اب دیکھنا ہے کہ یہ جماعتیں اپنی لیڈرشپ کو سپورٹ کریں گی ، اور عوام کو بھی سوچنا پڑے گا کہ کیا وہ اس سازش میں ملوث ہونا چاہتے ہیں ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *