پس ثابت ہوا کہ ’’ باتوں اور عملی کاموں میں فرق ہوتا ہے ‘‘، عمران خان کی کوششیں رنگ لے آئیں، برطانیہ سے آنے والی خبر نے پوری قوم کو سرپرائز دے دیا، پاکستان کو بلین پاؤنڈز کے منافع کا امکان

لاہور(نیوز ڈیسک) برطانیہ نے بھی پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کا عندیہ دے دیا، پاکستان برطانوی سفارتکاروں اور شہریوں کے لیے ایک محفوط ملک ہے، پاکستان میں سکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہے، برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے خواہاں ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے

برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کی ہے۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر کا کہنا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، برطانیہ کے ساتھ پالیمانی روابط، تجارت اور سیاست کے شعبوں میں وسعت چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے شعبے میں ترقی کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی لا رہا ہے، سیاحوں کو پاکستان کے سیاسی مقامات کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں۔برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹرکرسچن ٹرنر کا کہنا ہے کہ پاکستان برطانوی سفارتکاروں اور شہریوں کے لیے ایک محفوط ملک ہے، پاکستان میں سکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہے، برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے خواہاں ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہا تھا کہ دہشت گردی کی عفریت کے باعث ہمارے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا اور صنعت کا شعبہ متاثر ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے خیبرپختونخواکوکافی نقصان ہوا،صوبے کاکوئی ضلع دہشت گردی کی عفریت سے محفوظ نہیں رہا،قبائلی عوام اپنے ہی ملک میں بے گھرہوگئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے حالات میں معیشت اورکاروباری پہیہ چلانے کیلئے ہرفردکواس وطن عزیزکے چلانے اوربنانے کیلئے بھرپورکرداراداکرناہوگا،ہمیں یہ نہیں سوچناچاہے کہ پاکستان نے ہمیں کیادیابلکہ ہمیں سوچناہوگاکہ ہم نے اس مٹی کوکیادیا،سوچ،نیت،اندازاورفکرکوبدلناہوگا۔سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہا تھا کہ مشکل حالات سے الحمداللہ نکل رہے ہیں،وزیراعظم عمران خان کواللہ تعالیٰ نے ایک مشکل مرحلے وامتحان سے نکالاہے،وہ دن اب دورنہیں جب پاکستان میں ترقی،خوشحالی اورکامیابی کاسورج طلوع ہوگا۔انہوں نے کہاکہ زرعی زمین کے حوالے سے موثرقانون سازی وقت کااہم تقاضاہے کیونکہ زرعی زمینیں بہت تیزی سے کم ہوتی جارہی ہیں،مستقبل میں آنے والی نسل کیلئے سوچناہوگا،کھادپرٹیکس ختم ہونے سے قیمتیں کم ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ زرعی زمینوں کورہائشی مقاصدکیلئے استعمال نہ کرنے کی قانون سازی کریں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ صوابی کے چھوٹے کاشتکاروں کی فلاح وبہوبدکیلئے 20کروڑروپے کے قرضے دیئے جارہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.