عمران خان کے دور میں پاکستان پر چڑھا کتنا قرضہ واپس کر دیا گیا،عمران خان کو ناکام کہنے والے یہ خبر ضرور پڑھیں

کراچی (ویب ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خارجہ امورمیں اہلیت کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے، ہاتھ پھیلانے والے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی، دنیا کی سوچ کا انداز بدلتا جارہا ہے، دنیا اپنی خارجہ پالیسی کو معاشی مفادات کیساتھ جوڑ رہی ہے۔ ہم نے ڈیڑھ سال میں بہت کچھ سیکھا ہے

اور موجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالرکے قرضے واپس کئے ہیں، اپنے مفادات کے حصول کے لیے دنیا بڑی مارکیٹس کی جانب دیکھ رہی ہے، یہ ممالک انسانی حقوق اوراخلاقیات کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن عملی اقدام نہیں کئے جاتے، بھارت ایک بہت بڑی تجارتی منڈی ہے۔ اس لئے معیشت کے پیش نظربہت سے ممالک نے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھائے، ہمیں 44 ممالک میں اپنے کاروبار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، فارن آفس میں نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے ایک علیحدہ محکمہ قائم کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکووفاق ایوانہائے صنعت وتجارت فیڈریشن ہائوس کے دورے کے موقع پر تاجروصنعتکاروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ اکنامک ڈپلومیسی میری ترجیح ہے، وزارت خارجہ کے دروازے کھلے ہیں تاجر آئیں اور پارٹنر شپ کریں.۔انہوں نے کہا کہ خواہش ہے اقتصادی ڈپلومیسی کے ذریعے تاجروں کی خدمت کرسکیں، جائزہ لیں گے تاجروں کے لیے کیا کرسکتے ہیں، پاکستانی سفارت خانوں کو ملکی کاروباری برادری سے تعلق بڑھانا ہو گا، پاکستان کو آج روئی درآمد کرنی پڑ رہی ہے جس پر اربوں کاخرچہ ہوگا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تاجر ترقی کا انجن ہیں بنگلا دیش نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہمیں پیچھے چھوڑدیا ہے، بنگلادیش کاٹن پیدا نہ کرنے کے باوجود ویلیو ایڈیشن سے اربوں ڈالر برآمدات کر رہا ہے۔افریقہ میں انجینئرنگ سیکٹر کی بڑی مارکیٹ ہے، افریقہ میں پاکستان کی تجارت صرف ڈیڑھ ارب ڈالر ہے،

فیصلہ کیا ہے افریقہ میں نئے مشن کھولیں گے اور کچھ کو اپ گریڈ کریں گے، کینیا میں پاکستان نے پہلی ٹریڈ اور سرمایہ کاری کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ سعودیہ، عرب امارات ،چین اور قطر سے اربوں ڈالر سفارتکاری سے حاصل کیے، آئی ایم ایف میں جانے سے پہلے جو معاشی دھماکا ہونے والا تھا وہ اللہ کے کرم سے رک گیا، آج بھی پاکستان کی درآمدات برآمدات سے زیادہ ہیں، زرعی اشیا ایکسپورٹ کرنی چاہیے تھی درآمد کر رہے ہیں، اربوں روپے کا خوردنی تیل امپورٹ کر رہے ہیں جو پاکستان خود پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توازن اور شراکت داری بنانی ہے جس کے لیے تاجروں کی رائے درکار ہے۔انہوںنے کہا کہ دنیا کی سوچ اورانداز بدل رہا ہے اور معاشی مفادات کو خارجہ پالیسیوں سے منسلک کردیا گیا ہے،پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک پاکستان معاشی طور اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوجائے، جب تک صنعت کا پہیہ نہیں چل جاتا، جب تک روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے اور ملک میں خوشحالی نہیں آجاتی۔ وزیر خارجہ نے بتایاکہ ان سب چیزوں کے لیے میں وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ آپ کے لیے پیغام ہے کہ بحیثیت وزیر خارجہ میری خواہش اور کوشش یہ ہے کہ وزارت خارجہ معاشی سفارتکاری میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ دیگر وزارتوں کے لیے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے وزارت خارجہ کس طرح اور کیا کردار ادا کرسکتی ہے سفارتخانوں کا کس طرح مزید فعال کر کے باہمی رسائی کو فروغ دیا جائے کہ معلومات اور دیگر سہولت کاریوں کے لیے سفارتی مشن کس طرح معاونت کریں یا کرنا چاہیئی ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ سفارتی مشنز کی تاجروں تک رسائی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو معاشی سفارتکاری کے ذریعے ہوسکتا ہے جس کے لیے تاجروں، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارت خارجہ میں شراکت داری قائم ہو اور ہمیں اکٹھا آگے بڑھنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی رسائی سے مل کر ہمیں کام کرنا ہوگا، میرا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان نے خارجہ امور میں بہتری لانی ہے تو معاشی استحکام ضروری ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.