ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں!!! وزیراعظم عمران خان کا اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کا نوٹس۔۔۔شہادت کی انگلی بلند کرتے ہوئے بڑا حکم جاری کر دیا، پاکستانیوں کیلئے خوشخبری آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کیخلاف ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف انتظامی اقدامات موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں

صوبائی چیف سیکرٹریز نے متعلقہ صوبوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں آٹا، چینی و دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں مستحکم ہیں تاہم سندھ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، سندھ کو چار لاکھ ٹن گندم کی فراہمی مکمل ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ ٹن مزید گندم کی فراہمی سے متعلق درخواست پر غور کیا جائے گا۔وزیراعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو ذخیرہ اندوز کیخلاف انتظامی اقدامات موثر بنانے کی ہدایت کی جبکہ اشیائے خورونوش میں ملاوٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے ایک ہفتے کے اندر نیشنل ایکشن پلان مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی افرادی قوت پوری کی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملاوٹ مافیا شہریوں کی صحت سے کھیل رہا ہے جنہیں ایسے گھناﺅنے فعل کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملاوٹ کرنے والے عوام اوربچوں کی صحت سے کھیلتے ہیں اور بچوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میرا وزیر اعظم بننے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے ،میں کسی سازش یا کسی ڈیل کی خوشبو نہیں سونگھ رہا ،نہیں چاہتا ہے کہ ذاتی رنجشیں پارٹی معاملات پر اثر انداز ہوں ،ہو سکتا ہے فواد چوہدری اگلا الیکشن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑیں ،

میرے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت انکوائری ہو رہی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ میرے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت انکوائری ہو رہی ہے،میں ایک سیاسی کارکن ہوں ،مجھ پر غداری کا الزام لگتا ہےتومیرےلئےیہ فخر کی بات ہے،میرے خلاف آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ،کابینہ کی ہدایت پر میرے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی ہو رہی ہے،میرے والد پر بھی 124 اے کا مقدمہ بنا تھا ،وہ فاطمہ جناح کی سپورٹ کر رہے تھے ، سیاسی وفاداریاں بدلنے کی روایت ختم کرنی چاہئیں ،سوداگروں پر سیاست کے دروازے بند نہ ہوئے تو یہ کسی کو بھی بیچ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہیں چاہتا ہے کہ ذاتی رنجشیں پارٹی معاملات پر اثر انداز ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ عندیہ ملتا ہو کہ مجھے کوئی انفارمیشن ہے یا کسی سازش اور بند کمروں اور بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی کسی ڈیل کا مجھے قطعی طور پر کوئی علم نہیں ہے،میں ایک ورکر کی حیثیت سے جو بھی تجزیہ کر پاتا ہوں وہ بیان کر دیتا ہوں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض دفعہ میرا تجزیہ غلط بھی ہو جاتا ہےاور کبھی کبھی تجزیہ درست بھی ہو جاتا ہے،موجودہ حالات مستحکم نہیں ہیں ،یہ حالات آگے چل نہیں سکتے،یہی حالات دو چار ماہ یا چھے مہینے مزید چلے تو میں سمجھتا ہوں کہ وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا ،پہلے ہی ہماری معیشت ایک ایسی نہج اور پوائنٹ پر پہنچ چکی ہے کہ جہاں پر بعض لوگ کہتے کہ اب واپسی ممکن نہیں ،اس کا خمیازہ اور اس کی قیمت ہمیں ادا کرنی پڑے گی ،احسن اقبال آج ہی فگر کوٹ کر رہے تھے کہ آج سے دو سال قبل ورلڈ بینک نے کہا تھا کہ 2020میں پاکستان کی 6 پرسنٹ گروتھ ہو گی ،اُسی ورلڈ بینک نے آج ہماری گروتھ ریٹ 2پوائنٹ 2 کی ہے،یہ ایک بہت بڑا اینڈیکیٹر ہے ،مہنگائی جو ہے وہ اپنی جگہ دنددناتی پھر رہی ہے گلی محلوں میں اور غریب آدمی، مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور اپر کلاس سمیت سب کو کھائے جا رہی ہے،اُن کلاسز کا جن کا بجٹ 19 اور بیس پر بیلنس ہوتا ہے وہ تباہ برباد ہو رہے ہیں ،اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.