ایسا کیا ہوا تھا کہ ڈاکوؤں کے دِل میں اچانک رحم آگیا؟ فوڈ ڈلیوری بوائے نے منظر عام پر آ کر ساری آپ بیتی سنا دی

کراچی (نیوز ڈیسک ) ڈاکو کا فوڈ ڈیلیوری بوائے کو گلے لگا کر اس کا سامان واپس کرنے کا معاملے میں موجود رائیڈر منظر عام پر آگیا ہے جس کے بعد ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا ہے۔ بات کرتے ہوئے محمد نعمان

کا کہنا تھا کہ جب میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس کچھ اپنا نہیں ہے، موبائل بھی کسی کا لے کر استعمال کر رہا ہوں تو اللہ نے ان کے دل میں رحم ڈالا اور انہوں نے مجھے گلے لگا کر جانے دیا۔محمد نعمان کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیو میں موجود گھر میں کھانا دینے آیا تھا، کھانا دینے کے بعد گھروالوں کے پاس کھلے پیسے نہیں تھے جس کی وجہ سے انہوں نے مجھے گلی کے پاس دکان پر بھیج دیا، واپسی پر جب مجھے اگلا آرڈر آگیا تو گھر والوں نے بھی مجھ سے ایک روٹی منگوا لی، جب میں واپس آیا تو میرے پاس دو ڈاکو آ کر کھڑے ہو گئے اور مجھ سے اس طرح بات کرنا شروع ہو گئے جیسے وہ مجھے جانتے تھے، ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی کو اس بات کا علم نہ ہو کہ وہ مجھے لوٹنے آئے ہیں۔محمد نعمان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے سے ہی اس بات کا علم تھا کہ میری کون سی جیب میں موبائل ہے اور کونسی جیب میں پیسے، لیکن جب میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس کچھ اپنا نہیں ہے، موبائل بھی کسی کا لے کر استعمال کر رہا ہوں تو اللہ نے ان کے دل میں رحم ڈالا اور انہوں نے مجھے گلے لگا کر جانے دیا۔ محمد نعمان نے بتایا کہ جب میری آنکھوں میں آنسو آ گئےتو ان میں سے ایک ڈاکو نے مجھے گلا لگایا جس کے بعد اس نے مجھے کہا ہے ہمارے پاس بھی دل ہوتا ہے۔محمد نعمان نے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ اپنے کسٹمر کے گھر میں ہی کچھ دیر چھپ گیا اور کمپنی سے رابطہ کیا لیکن کمپنی نے اس کی کسی طرح کی کوئی معاونت نہیں کی۔ تاہم محمد نعمان نے مایویسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب دوبارہ یہ نوکری نہیں کرے گا کیونکہ اس سے کئے جانے والے معاہدوں کو کمپنی نے پورا نہیں کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.