تبدیلی سرکار کا کاونٹ ڈاؤن شروع۔۔۔ایم کیوایم کے بعد ایک اور اتحادی جماعت نے وزیراعظم عمران خان کو بڑا سرپرائز دے دیا

لاہور(ویب ڈیسک) ایم کیو ایم پاکستان کی حکومت سے ناراضگی اور وزارتوں سے مستعفی ہونے کے بعد ایک اورحکومتی اتحادی جماعت نے اجلاس طلب کرلیا۔ بی این پی مینگل کی کورکمیٹی کا اجلاس 19جنوری کوسرداراخترمینگل کی صدرات میں ہوگا، اجلاس میں حکومتی اتحاد اور6 نکاتی مطالبات پرعملدارآمد کا جائزہ لیا جائےگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی اتحادی

جماعت بی این پی مینگل نے بھی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، بی این پی مینگل کی کور کمیٹی کا اجلاس 19جنوری کوکراچی میں ہوگا۔سرداراختر مینگل اجلاس کی صدرات کریں گے۔ اجلاس میں 6 نکاتی مطالبات پرعملدارآمد کا جائزہ لیا جائےگا۔ سیکرٹری جنرل جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بی این پی مینگل کورکمیٹی اجلاس پہلے سے شیڈول ہے۔کورکمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں حکومتی وعدوں پرپیشرفت سے متعلق بات چیت ہوگی۔ اسی طرح ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے تمام اتحادی ان سے ناراض ہیں۔پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی وجہ سےان کےاصل لوگ چھوڑچکے ہیں۔ ایم کیوایم کیلئے بلاول بھٹو کی آفر اب بھی موجود ہے۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی حکومت سے ناراضگی اور وزارتوں سے مستعفی ہونے کے بعد ایک اورحکومتی اتحادی جماعت نے اجلاس طلب کرلیا۔ بی این پی مینگل کی کورکمیٹی کا اجلاس 19جنوری کوسرداراخترمینگل کی صدرات میں ہوگا، اجلاس میں حکومتی اتحاد اور6 نکاتی مطالبات پرعملدارآمد کا جائزہ لیا جائےگا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو منانے کا وزیراعظم کا ٹاسک بے سود ہوگا، ایم کیو ایم اگردوبارہ اتحادی بنے گی تو واپس چلی جائے گی۔ حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں،پھر کیسے کسی میں صلح کروائیں گے؟ واضح رہے وزیر اعظم عمران خان نے ایم کیوایم کو منانے کیلئے وفد تشکیل دے دیا ہے، وفد وفاقی وزیر اسد عمر کی صدارت میں ایم کیوایم قیادت سے ملاقات کرے گا۔وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ 2020 تبدیلی کا نہیں ترقی کا سال ہے۔ حکومت اوراتحادیوں کے درمیان تحفظات ہوتے رہتے ہیں۔ حکومت جب بھی مستحکم ہونے لگتی ہے غیر ریاستی عناصر سرگرم ہو جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.