یہ ہوئی ناں بات : وزیراعظم عمران خان نے بے نظیر انکم سپورٹ فنڈز کے مبینہ غلط استعمال میں ملوث افسران کو ایسی جگہ طلب کر لیا گیا کہ پورے ملک میں ہلچل مچ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) ایف آئی اے لاہور نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال میں ملوث 16 مشتبہ افسران کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے اگلے ہفتے میں طلب کر لیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال میں ملوث 16 مشتبہ افسران کو بیان ریکارڈ کرانے

کے لئے ایف آئی نے اگلے ہفتے لاہور میں طلب کر لیا ہے،پنجاب زون ون کے ڈائریکٹر محمد رضوان کی سربراہی میں ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم کو 2010 سے 2018 کے درمیان بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں سرکاری عہدیداران کے کردار کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزام میں گریڈ 17سے 20کے 16 افسران کو طلب کیا گیا ہے۔ان افسران کے اکاؤنٹس، اثاثوں اور غیر ملکی اکاؤنٹس سمیت ان کے شریک حیات کے اکاؤنٹس اور اثاثوں کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے والوں کو جوابدہ ہونا ہوگا چاہے وہ اسحاق ڈار کا گھر ہو یا جاتی امرا ۔سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے والوں کو جوابدہ ہونا ہو گا، ماضی میں طاقتور نے قانون کو اپنے مفاد کے ساتھ جوڑا ہوا تھا، وزیراعظم نے کہا کہ چوروں کو نہیں چھوڑوں گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچاؤں گا، گٹھ جوڑ کے خلاف وزیراعظم کی جدوجہد آخری مراحل میں داخل ہورہی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ گلے سڑے نظام میں اصلاحات کے لیے چیلنجز درپیش ہیں، وزیراعظم کی اصلاحات پالیسی کو مافیا ناکام بنانے کی کوشش کررہا ہے، ملک میں کچھ نیٹ ورک آٹا اور چینی کے بحران کے لیے کام کر رہے ہیں، حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ گٹھ جوڑکیا ہے، وزیراعظم نے آٹا بحران پرصوبائی حکومتوں کومتحرک کیا ہے۔

Sharing is caring!