‏آرمی ایکٹ ترامیمی بِل کی حمایت کیوں کی؟ بڑی سیاسی جماعت نے اپنے ہی سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا، پوری پارٹی میں حیران کُن صورتحال پیدا

لاہور( نیوز ڈیسک ) حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ ترامیمی بل پیش کیا گیا جس کے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظر کر لیا گیا ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مخالفت کی اور تحفظات کا اظہار کیا بعدازاں اس بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ لیکن ایک ایسی پارٹی بھی ہے

جس نے سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترامیمی بل کی حمایت کرنے پر اپنی پارٹی کے نامور رُکن اور سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر سینیٹر اشوک کمار کو پارٹی سے نکال دیا۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء منظور کر لیا گیا ہے، قومی اسمبلی میں نیوی، ائیرفورس ایکٹ ترمیمی بل 2020ء بھی منظور کر لیا گیا ہے۔تینوں بل کثرت رائے سے منظور کیے گئے۔اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء کی حمایت کی۔جمعیت علمائے اسلام ف، جماعت اسلامی اور فاٹا ارکان قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 3 جنوری کو کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع کے اجلاس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے اعلان کیا تھا کہ مذکورہ بلز منظور ہوگئے اور سینیٹ کمیٹی سے علیحدہ منظوری کی ضرورت نہیں تاہم جب اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی غیرمعمولی جلدبازی پر احتجاج کیا گیا تو حکومت کو 4 جنوری کو دونوں ایوانوں کا طلب کیا گیا اجلاس ملتوی کرنا پڑا تھا اور حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیے گئے نئی ٹائم لائن پر اتفاق کیا تھا.گزشتہ روز وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا تھا کہ قائمہ کمیٹی کی جانب سے متفقہ طور پر ترامیم کی منظوری دی گئی انہوں نے کہا تھا کہ کوئی ٹریک سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، ہمیں افواہوں سے گریز کرنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں واضح رہے کہ 3 جنوری کو قومی اسمبلی میں پاک آرمی ایکٹ 1952، پاک فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بل وزیر دفاع پرویز خٹک نے پیش کیے تھے. اس سے قبل یکم جنوری کو پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ پر ترامیم کی منظوری دی تھی.وزیر قانون فروغ نسیم نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ترامیمی بلز کے مختلف پہلوﺅں پر بریفنگ دی تھی. اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بلز میں کچھ ترامیم متعارف کروانے کی کوشش کی تھی لیکن ویزر قانون نے بتایا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی قائمہ کمیٹی کے رکن کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے ترامیم کے لیے دباﺅ نہیں ڈالا تھا اور بلز متفقہ طور پر منظور کیے گئے تھے.

Sharing is caring!

Comments are closed.