فواد چودھری سے استعفیٰ طلب کر لیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ روز وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی سے پارٹی کمزورہوئی، دونوں میں سیاسی بات نہ بننے سے سیاسی قیادت آؤٹ ہوگئی، سیاسی لوگوں کی جگہ بیوروکریٹس نے لے لی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسد عمر کو جہانگیر ترین نے وزارت خزانہ سے فارغ کرایا،

اسد عمر دوبارہ آئے تو جہانگیر ترین کو فارغ کرا دیا۔ اس پر صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ فواد چودھری اگرحکومت سے مطمئن نہیں تو استعفیٰ دے دیں۔ فواد چودھری کے بیان پر انھیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیا ض الحسن چوہا ن نے کہا کہ وہ خود کو زیادہ وژنری سمجھتے ہیں، میں نے انھیں 6 ماہ قبل سمجھایا تھا کہ باز آ جاؤ۔ ان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری سمجھتے ہیں کہ عمران خان ناکام ہو گئے، وہ وزیراعظم کا لحاظ کرتے ہیں تو ان کو شرم کرنی چاہیے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی سے پارٹی کمزورہوئی، دونوں میں سیاسی بات نہ بننے سے سیاسی قیادت آؤٹ ہوگئی، سیاسی لوگوں کی جگہ بیوروکریٹس نے لے لی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسد عمر کو جہانگیر ترین نے وزارت خزانہ سے فارغ کرایا، اسد عمر دوبارہ آئے تو جہانگیر ترین کو فارغ کرا دیا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پی ٹی آئی حکومت میں ہونے والی رسہ کشی کی پول کھول دی۔نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں فواد چوہدری نے جہانگیر ترین اور اسد عمر کے درمیان رسہ کشی کا انکشاف کیا اور بتایا کہ اسد عمر کی وزارت جانےکے پیچھے کس کا ہاتھ تھا، پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو نکلوایا اور پھر اسد عمر نے جہانگیر ترین کی چھٹی کرادی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی حکومت بنی تو جہانگیر ترین ،اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات اتنے بڑھ گئےکہ پولیٹیکل کلاس سارے کھیل سے ہی باہر ہوگئی اور بیوروکریٹس نے جگہ لے لی، جن لوگوں نے یہ خلا پر کیا وہ سیاست سے تھے ہی نہیں۔وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم عمران خان وزرا کو خبردار کرچکے ہیں کہ ہمارے پاس ساڑھے پانچ چھ مہینے ہیں جس میں ہمیں خود کو تگڑا کرنا ہوگا ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے آنے والے لوگ نہ عمران خان کی سوچ سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ان میں صلاحیت ہے تو پھر عمران خان کا وژن کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو لوگوں نے پورے سسٹم کی اصلاح کے لیے منتخب کیا ہے، معلوم نہیں کس نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ کمزور اور ڈکٹیشن لینے والے لوگوں کو لگائیں، ایسا کرنے سے سب سے زیادہ نقصان خود عمران خان کو پہنچا۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مزید کہا کہ عمران خان کی ناکامی کسی انفرادی شخص کی ناکامی نہیں ، اسے کوئی افورڈ نہيں کرسکتا ، عمران خان کو اس لیے سپورٹ کیا جارہاہے کہ کوئی اور سیاسی آپشنز نہيں ہیں، یہاں سیاسی جماعتیں نہيں ہیں، لوگ لیڈرز کو سپورٹ کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.