راؤ انوار کا نور جہاں اور آصف علی زدراری سے کیا تعلق تھا ؟ اور یہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کیسے بنا ؟

راؤ انوار کی پولیس میں ملازمت کا جائزہ لیا جاۓ تو وہ 1981 میں ایس پی ہاربر کے پاس بطور کلرک بھرتی ہوا تھا، وہی ایس پی ہاربر جسے ایس پی کماڑی بھی کہا جاتا تھا. جبکہ 1982 میں راؤ انوار کی اے ایس آئی تعیناتی ہو چکی تھی.ساتھ اہلکار بتاتے ہیں کہ راؤ انوار ترقی کا

خواہشمند تھا. وہ اپنے راستے میں جائز اور نا جائز کو نہیں دیکھتا تھا، وہ مختلف تھانوں میں ڈیوٹی سر انجام دیتا رہا اور مختلف محکموں میں اپنے تبادلے بھی کرواتا رہا. اس طرح آہستہ آہستہ اس نے اہم شخصیات کیساتھ رابطے قائم کر لیے جن میں معروف گلوکار نور جہاں بھی شامل ہیں.نور جہاں نے راؤ انوار کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا، اپنی اس عادت کے سبب راو انوار نے غیر معمولی طور پر جلد ہی ترقی حاصل کی اور اے ایس آئی سب انسپیکٹر بناۓ جانے کیساتھ ہی اسے ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد تعینات کر دیا گیا.۔۔ ۔ راؤ انوار کے ساتھی افسران کے مطابق اس عرصے کے دوران (People Student Federation) سے تعلق رکھنے والے کچھ لڑکوں کی گرفتاری ہوئی، پپلز پارٹی کے دور حکومت میں ان لڑکوں کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی گئی. راؤ انوار اور حکومت میں معاملات چلتے رہے جسکے بعد راؤ انوار سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے منظور نظر ہو گئے. اسکے بعد تو جیسے راؤ انوار کے کیرئیر کو پر ہی لگ گئے.یہی وہ دور تھا جب حکومت میں شامل اہم شخصیات کیساتھ راؤ انوار کے رابطے قائم هوئے جسکے بعد اسنے ترقی کا سفر تیزی سے طے کیا.ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے فاروق دادا اور بانی متحدہ قومی موومنٹ کے بھتیجوں کی مقابلے میں موت کا الزام بھی راؤ انوار کے سر ہی آتا رہا. اس مقابلے کے بعد راؤ انوار کو ترقی ملتی رہی اور بدستور اچھے عہدوں تک جاپہنچا.

Sharing is caring!

Comments are closed.