محمد یوسف کے پختہ یقین نے میرا کیرئیر بچایا۔۔!! یوسف کے اسلام قبول کرتے وقت کیا ہوا تھا؟ سابق انگلش کپتان ’ اینڈریو سٹروس‘ نے دلچسپ انکشاف کر دیا

لندن ( نیوز ڈیسک ) انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اینڈریو سٹراس کا کہنا ہے کہ اچھا پرفارم نہ کرنے پر مجھے ٹیم سے نکالے جانے کا خوف تھا ، یہ خوف میری کارکردگی کو بری طرح متاثر کررہا تھا لیکن اس خوف پر قابو پانے میں مجھے محمد یوسف کے فلسفے کہ سب کچھ

اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے آپ کے اپنے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا نے مدد کی اور میں کامیابی کی طرف چل پڑا۔ایک انٹرویو میں 42 سالہ اینڈریو سٹراس نے کہا کہ ’’ایک وقت تھا جب میں اپنے کیریئر سے مایوس ہو گیا تھا اور سوچتا تھا کہ میں بہت جلد ٹیم کا حصہ نہیں رہوں گا، مجھے لگتا تھا کہ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہا، اور میں خود سے ایک جنگ میں مصروف تھا مگر پھر محمد یوسف کا فلسفہ میرےکام آیا ۔میں نے یہ جنگ ایک سال تک لڑی، اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک میچ میں میری زندگی بدل گئی، اس میچ میں سب کو یقین تھا کہ اگر میں نے پرفارم نہیں کیا تو ایک لمبے عرصے کیلئے مجھے ٹیم سے نکال دیا جائے گا اور میرا کیریئر داؤ پر لگ جائے گا ، تب میں نے محمد یوسف کے فلسفے سے مددلی، میں نے سوچا کہ اگر یہ میرا آخری میچ ہے تو میں اس حقیقت کو بدل نہیں سکتا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ٹیم سے باہر نکالنے کا فیصلہ ہوچکا ہے تو میں اس کو بدل نہیں سکتا تو مجھے پریشان ہونے کے بجائے اس میچ کو اپنے پہلے میچ کی طرح مزے لیتے ہوئے کھہلنا چاہیے تاکہ میں اس کو یادگار میچ بنا سکوں، اس کے بعد ٹیم سے نکال دیا گیا تو یہ اللہ کا فیصلہ ہوگا ،تو جو ہوتا ہے اللّه کی طرف سے ہوتا ہے اور سب کچھ اسکے قابو میں ہے، چنانچہ میں اپنا خوف ختم کرکے میدان میں اترا اور میری توقع کے برعکس میں 177 رنز کی اننگز کھیل گیا، اس کے بعد میں ایک کامیابی کے سفر پر چل پڑا، میری کامیابی کاراز محمد یوسف کا فلسفہ ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے محمد یوسف سے بہت کچھ سیکھا، وہ پہلے یوسف یوحنا تھے اور انکی ٹیسٹ ایوریج 40 تھی لیکن پھر وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان محمد یوسف بنے اور انکی زندگی بدل گئی اور انہوں نے فکر چھوڑ دی کہ جو کرتا ہے اللّه ہی کرتا ہے، اور میں نے دیکھا کہ محمد یوسف اگلے 3 سالوں میں اپنی ایوریج 70 تک لے گئے۔اسکی وجہ یہ تھی کہ محمد یوسف نےبیٹنگ کی زیادہ پرواہ کرنا چھوڑ دی تھی، وہ محنت کرتے تھے مگر خوف یا ڈر میں مبتلا نہیں ہوتے تھے اور انہوں نے سوچ لیا تھا کہ جو ہوتا ہے اللّه کی طرف سے ہوتا ہے، یہ میرے لئے بہت فائدہ مند تھا کیوں کہ اب مجھے یقین ہوگیا تھا کہ جو ہونا ہے ہو کے رہے گا۔یاد رہے کہ سابقہ ٹیسٹ بیٹسمین محمد یوسف ستمبر 2005ء میں اسلام قبول کر کے یوسف یوحنا سے محمد یوسف ہو گئے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.