کورونا وائرس سے لڑنے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ کیا ہے؟ سائنسدانوں نے دنیاوالوں کو بڑی خوشخبری سُنا دی

برسلز (ویب ڈیسک) قوت مدافعت کی مضبوطی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے اور اب تک درجنوں تحقیقات میں سائنسدان لوگوں کو ہدایت کر چکے ہیں کہ وہ قوت مدافعت کی مضبوطی کے لیے پوری نیند لیں اور وٹامن ڈی کا استعمال کریں۔ اب یورپی ملک بیلجیم کے سائنسدانوں نے

بھی وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس کو کورونا وائرس سے لڑنے کا آسان اور سستا طریقہ قرار دے دیا ہے۔میل آن لائن کے مطابق برسلز فری یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جو لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں ان میں کورونا وائرس کی علامات زیادہ سنگین ہونے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ہزاروں لوگوں پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی تھی ان میں کورونا وائرس کی علامات سنگین ہونے کا خطرہ 5گنا زیادہ تھا۔ اسی موضوع پر انڈونیشیاءکے ماہرین نے بھی ایک تحقیق کی ہے جس کے نتائج میں انہوں نے بتایا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار جتنے کوروناوائرس کے مریض ہسپتال لائے گئے ان میں سے 99فیصد کی موت واقع ہو گئی۔ انڈونیشیئن ماہرین نے بھی اس تحقیق میں وٹامن ڈی کو کورونا وائرس کے حوالے سے ’لائف سیور‘ قرار دیا ہے اور لوگوں کو اس کے سپلیمنٹس استعمال کرنے کی تاکید کی ہے۔ وٹامن ڈی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس سے تھکان دور ہوتی ہے، پژمردگی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ کینسر کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن چند طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند افراد کو اس قسم کے اضافی وٹامنز سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔ اب جب کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا کہا جا رہا ہے تو ہم میں سے کئی لوگ اس دوران اپنی غذا میں شامل اجزا کی جانب کافی توجہ دے رہے ہیں اور یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ وہ کس طرح اپنی صحت کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھ سکتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ حقیقت کیا ہے اور کیا محض ٹوٹکہ ہے، بی بی سی فیوچر اپنی آرکائیو میں سے ایسی رپورٹس کو اضافی معلومات کے ساتھ دوبارہ پیش کر رہا ہے۔ بی بی سی گُڈ فوڈ میں ہمارے ساتھی غذاؤں کے اجزا کی ترتیب میں رد و بدل، باورچی خانوں کے سٹورز میں مزے دار کھانے بنانے کی ترکیبوں اور لاک ڈاؤن میں کھانوں کے بارے میں مختلف پہلوؤں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.