قران مجید کی آیات سے کرونا وائرس سے شفا : سینئر پاکستانی صحافی کی ایک مدلل تحریر جس پر یقیناً چین والے ٹوٹ پڑیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) قارئین کرام! سب سے خطرناک مرض سرطان‘ یعنی کینسر ہے۔ کسی جگہ انسانی خلیات میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ وہ کنٹرول سے باہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جسم کا دفاعی نظام جسے ”امیون سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے ‘وہ دفاع میں ناکام ہوتا چلا جاتا ہے تو آخر کار انسان مفلوج ہو کر

تو شفاء کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ معروف عالمی سکالر عبدالدائم کحیل اپنی ریسرچ میں واضح کرتے ہیں کہ انسانی خلیات میں سب سے زیادہ شفاء کا اثر قرآن کی آوازوں کا ہوا ہے۔ یہ حقیقت تجربات سے ثابت ہو چکی ہے۔میں کہتا ہوں ایسا کیوں ہو کہ انسانی خلیات میں بھی اللہ کو ماننے کی تحریر ہے اور قرآن جو آسمانی پیغام ہے‘ اس کا تعلق اللہ سے ہے کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔ یوں روحانی کلام کا پیغام جب دماغ کے ذریعے مادی خلیات تک جاتا ہے تو ایسی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے کہ باہر کے جراثیم کو وہ کورونا وائرس ہو یا کوئی اور اس کے لیے سروائیو کرنا اور موجودگی کو دوام دینا مشکل ہو جاتا ہے‘ لہٰذا شفاء کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ قرآن کو اللہ کا کلام نہ ماننے والے کا المیہ یہ ہے کہ اس کے خلیات میں ایک خالق کی تحریر تو موجود ہے ‘مگر ماحول اور شیطان نے اس کو اللہ کا منکر بنا دیا ہے‘ لہٰذا اس کے اندر ایک کشمکش ہے اس کشمکش یا جنگ میں شفاء کا اثر کم سے کم تر ہو جاتا ہے‘ جبکہ مومن کے لیے کہ مومن کی بھی ایمانی سیڑھیاں ہیں‘ اسی کے مطابق ہی شفاء ملتی ہے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ آخری فیصلہ قرآن بھیجنے والے اور ڈی این اے پر تحریر لکھنے والے اللہ ہی کا ہے۔ اس پر ایمان کس درجے کا ہے۔ شفاء کو حاصل کرنے والے کو سوچنا ہوگا۔ تیربہدف شفائیہ سورت کا ذکر اگلے کالم میں! (اِن شاء اللہ)وہ لوگ جو قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ‘وہ روحانی ہدایت بھی حاصل کرتے ہیں‘جسمانی شفاء بھی پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصہ دار بھی بنتے ہیں۔ یاد رہے! میڈیکل کی دنیا میں اس اصول کو تجرباتی بنیادوں پر تسلیم کیا گیا ہے کہ شفاء کے حصول میں آدھا کام دوائی کا ہوتا ہے ‘جبکہ آدھا کام مریض کا اعتقاد اور نظریہ کرتا ہے کہ مجھے شفاء مل جائے گی۔ (ش س م)

Sharing is caring!