تحریک انصاف کے اندر فارورڈ بلاک کی اصل کہانی ۔۔۔۔بی بی سی کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے سب سے بڑے اور سیاسی طور پر اہم صوبے پنجاب میں حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان اور اس کے اتحادی صوبائی حکومت سے ناخوش ہیں۔مقامی ذرائع ابلاغ میں پنجاب کے ضلع لیہ سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی سردار شہاب الدین کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں کہ

نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ان سمیت پی ٹی آئی کے 20 ارکان کو حکومتِ پنجاب سے شکایات ہیں۔ان میں زیادہ تر ارکانِ اسمبلی کا تعلق جنوبی پنجاب جبکہ دیگر کا وسطی اور شمالی پنجاب سے بتایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں حکمران جماعت کے وفاقی وزیرِ فواد چوہدری نے بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعے وزیرِاعلٰی پنجاب اور ان کے طرزِ حکومت سے بیزاری کا اظہار کیا تھا۔مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی اس حوالے سے تصدیق کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی کو حکومت سے شکایات ہیں۔ان شکایات میں نمایاں عنصر’ترقیاتی فنڈز کی عدم دستیابی’ کا ہے۔ اراکین کی شکایت ہے کہ ’انہیں ترقیاتی فنڈز نہیں دیے جا رہے اور ترقیاتی سکیموں کے اجراء کے وقت ان کے (انتخابی) علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘اتحادی جماعت کے ساتھ ساتھ اگر حکمران جماعت کے اندر سے بھی ناراضگی کی خبریں آنے لگیں تو حکومت دباؤ کا شکار ضرور ہوتی ہے کیونکہ اسے حکومت قائم رکھنے کے لیے ایوان میں اپنی عددی برتری برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ ایسے میں کوئی بھی حکومت اپنے ہی ارکان اور اتحادیوں کو ناراض کیوں کرنا چاہے گی؟ یہ ترقیاتی فنڈز ہوتے کیا ہیں، یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے اور حکومت ارکانِ اسمبلی کو کیوں دیتی ہے؟ انہیں اس کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟احمد بلال محبوب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجیسلیٹو ڈویلپمنٹ یا پلڈیٹ کے سربراہ ہیں۔ ان کا ادارہ پاکستان میں مقننہ، قانون سازی اور اس کے ارتقاء کے معاملات پر کام کرتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ترقیاتی فنڈز بنیادی طور پر وہ پیسے ہیں جو کسی علاقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں کسی علاقے میں سڑکیں بنانا، گیس، بجلی، پانی، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی یا انہیں ترقی دینا شامل ہے۔یہ وہ پیسے ہوتے ہیں جو ہر حکومت ملک کے مخلتف علاقوں میں ترقی اور فلاح و بہبود کی سکیموں کے لیے مختص کرتی ہے۔ یہ رقم حکومت کے سالانہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی یعنی عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام یا سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں رکھی جاتی ہے۔احمد بلال محبوب کے مطابق یہ پیسے براہِ راست ارکان کو جاری نہیں کیے جاتے، یہ ان کے علاقوں میں ترقیاتی سکیموں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں۔’مثال کے طور پر حکومت کہتی ہے کہ فلاں ایم این اے کو پانچ کروڑ اور فلاں ایم پی اے کو تین کروڑ ان کے علاقے کی ترقی کے لیے دیے جائیں گے۔’ یعنی یہ پیسہ اس رکن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری ہوتا ہے۔احمد بلال محبوب کے مطابق بعض اوقات حکومتیں اس پیسے کے اجراء کے ساتھ شرائط بھی رکھ دیتی ہیں جیسا کہ یہ پیسے کس قسم کے منصوبے کے لیے استعمال ہو گا اور اس کے لیے تعمیراتی کام کا ٹھیکہ کس کو اور کیسے دیا جائے۔ہونا تو ایسا ہی چاہیے کیونکہ ہر علاقے میں ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ایسا ہوتا نہیں ہے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق اگر تاریخ میں ترقیاتی کاموں کا موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی ارکان کو حزبِ اختلاف کے ارکان کے مقابلے زیادہ فنڈز ملتے ہیں۔

‘ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسے ترقیاتی منصوبوں پر انفرادی حیثیت میں یا اکٹھے بھی کام کرتی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر ہونا یہ چاہیے کہ ایسے کام ضلعی حکومتوں کے ذریعے ہوں۔احمد بلال محبوب کے خیال میں ایسا کہنا درست نہ ہو گا کیونکہ ‘اگر ایسا ہوتا تو تحریکِ انصاف کی حکومت بلدیاتی نظام ختم ہی نہ کرتی یا نیا نظام جلد لے آتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔’تاہم ترقیاتی منصوبوں پر سالانہ مختص رقم اسی سال میں استعمال ہونا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم استعمال ہو رہی ہے لیکن وہ یا تو لوکل گورنمنٹ کے ایڈمنسٹریٹر یا پھر ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کے ذریعے ہو رہی ہے۔’اور اس طرح پھر حکومت خود انتخاب کرتی ہے اور اپنی مرضی اور پسند کے ارکان کو فنڈز کا اجرا کرتی ہے۔’احمد بلال محبوب کے مطابق تحریکِ انصاف کے وزرا اور اراکین جو شکایات کر رہے ہیں اس کی وجہ بھی یہی کہ ان کے اضلاع کو ترقیاتی منصوبے یا دوسرے الفاظ میں ترقیاتی فنڈز جاری نہیں ہو رہے۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ اجرا صوبائی سطح پر قائم فنانس کمیشن کے ذریعے ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔’لیکن کیونکہ پنجاب میں بلدیاتی نظام ہی نہیں ہے، بلدیاتی حکومتیں ختم کر دی گئی ہیں تو کوئی فنانس کمیشن بھی نہیں ہے۔ اس لیے وزیرِاعلٰی پنجاب اپنی مرضی سے چیزیں جاری کرتے رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے شکایات بھی ہیں۔’پاکستان میں قانونی طور پر کسی سیاسی جماعت کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن غیر رسمی انداز میں ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ تو کیا اس وقت بھی ایسا ہو سکتا ہے؟صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق ایسا کوئی خدشہ فوری طور پر موجود نہیں ہے۔ ارکان کی ناراضگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ ایسی چھوٹی موٹی بغاوت ہوتی رہتی ہے۔ اپنے اپنے مطالبات لیکن ابھی کوئی سنجیدہ حرکت نہیں ہو رہی۔ اس میں وقت لگے گا۔’تجزیہ کاروں کے خیال میں تحریکِ انصاف کے اراکین اور اتحادیوں کی شکایات اور اختلافات کا تعلق زیادہ تر موجود حکومت کے طرز اور کام کے طریقے سے ہے۔(بشکریہ : بی بی سی)

Sharing is caring!