جنرل ضیاء دراصل کیا چاہتے تھے ؟ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) جس زمانے میں وہ راولپنڈی میں خفیہ اہلکار رہے کرنل رفیع الدین اپنی کتاب ’بھٹو کے آخری 223 دن‘ میں لکھتے ہیں ’تھوڑی دیر بعد ایک خفیہ ایجنسی کے ایک

فوٹوگرافر نے آکر بھٹو کے پرائیوٹ پارٹس کی فوٹو اتاریں۔ حکومت اس بات کی تصدیق کرنا چاہتی تھی کہ آیا بھٹو کی اسلامی طریقے سے ختنے بھی ہوئے تھے یا نہیں۔ تصاویر اتارنے کے بعد

اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ بھٹو کے ختنے ہوئے تھے۔ ‘ بعد میں شیام بھاٹیہ نے اپنی کتاب ’گڈبائی شہزادی‘ میں لکھا تھا کہ بےنظیر نے انہیں خود بتایا تھا کہ بھٹو کو موت کے بعد بھی اس بے عزتی سے گزرنا پڑا تھا۔ بےنظیر اپنی سوانح عمری میں لکھتی ہیں ’ممی کی دی نیند کی والیم گولیوں کے باوجود ٹھیک دو بجے میری آنکھ کھل گئی اور میں

زور سے چلائی۔ نو۔نو۔۔ میری سانس رک رہی تھی۔ جیسے کسی نے میرے گلے میں کچھ ڈال دیا ہو۔ پاپا، پاپا۔ میرے منھ سے بس یہی نکل رہا تھا۔ سخت گرمی کے باوجود میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔‘ چند گھنٹوں کے بعد قید خانے کے اسسٹنٹ اس گھر میں گئے جہاں نصرت اور بے نظیر بھٹو کو نظر بند کیا گیا تھا۔ اسے ملتے ہی بےنظیر کے پہلے الفاظ تھے ’ہم وزیراعظم کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں۔‘افسر کا جواب تھا ’انہیں تدفین کے لیے لے جایا جا چکا ہے۔‘بے نظیر لکھتی ہیں ’مجھے لگا جیسے کسے نے مجھے گھونسا رسید کیا ہو۔ میں نے چلا کر کہا آپ انہیں ان کے اہل خانے کے بغیر

تدفین کے لیے کیسے لے جاسکتے ہیں؟‘ اس کے بعد اس اس افسر نے بھٹو کی ایک چيز بے نظیر کو سونپی۔بے نظیر لکھتی ہیں ’اس نے مجھے پاپا کی شلوار قیمض دی جو پاپا نے سزا سے پہلے پہن رکھی تھی۔ اس سے شالمیار کولون کی مہک ابھی تک آرہی تھی۔ پھر اس نے ایک ٹفن باکس دی جس میں انہیں گزشتہ دس دنوں سے کھانا بھیجا جارہا تھا جسے وہ کھا نہیں رہے تھے۔ اس نے ان کا بستر اور چائے کا کپ بھی مجھے دیا۔ میں نے پوچھا ان کی انگوٹھی کہاں ہے؟ افسر نے پوچھا ان کے پاس انگوٹھی بھی تھی کیا؟ پھر اس نے جھولے میں سے انگوٹھی تلاش کرنے کا ڈرامہ کیا اور پھر انگوٹھی مجھے پکڑا دی۔ وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ ان کی آخرت بہت پرسکون تھی۔‘ میں نے سوچا ایسی سزا بھی کیا کبھی پُرسکون ہوسکتی ہے۔ بےنظیر کے خاندان کے ملازم بشیر کی نگاہ جیسے ہی بھٹو کے شلوار قمیض پر پڑی، وہ چلانے لگا۔ ’یا اللہ، یا اللہ، انھوں نے ہمارے صاحب کو ختم کر دیا۔‘

Sharing is caring!

Comments are closed.