’’ابنِ عربی میرے خواب میں آئے اور کہا کہ ۔۔۔ ‘‘ ڈرامہ سیریل ارطغرل لکھنے کا خیال کیوں پیش آیا؟ ڈرامے کے ڈائریکٹر نے سب کچھ بتا دیا

انقرہ (نیوز ڈیسک )معروف ترک ڈرامے ” ارطغرل غازی “ کے ڈائریکٹر ” مہمت بوزداع “ نے جنگ نیوز کو خصوصی انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے ڈرامے کو فلمانے اور اس کے بارے میں کچھ اہم حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ترک ڈرامے کے ڈائریکٹر کا کہناتھا کہ میں

مجھے کم عمری ہی سے لکھنے لکھانے کا شوق تھا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ اور پھر ایک رات مَیں نے صوفی بزرگ، مفکّر و محقّق” ابن العربی “کو خواب میں دیکھا اور بس اس خواب کے بعد میری زندگی کا رخ ہی بدل گیا۔ مَیں باقاعدہ طور پر لکھنے لگا۔ بعد ازاں ،ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک کمپنی قائم کی، جس کے پلیٹ فارم سے دستاویزی فلمیں تیار کرنا شروع کیں اور یوں اس فیلڈ میں آگے بڑھتا چلا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے یہ ڈراما سیریل بنانے کا ارادہ کیا، تو سب کا یہی خیال تھا کہ اِسے ضرور پسند کیا جائے گا،لیکن جب نشر ہوا، تو کوئی خاص ریسپانس سامنے نہیں آیا، مگر مجھے یقین تھا کہ اگر ہم ڈرامے کی کہانی صحیح طریقے سے سمجھانے اور پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے، تواسے ملکی ہی نہیں،بین الاقوامی سطح پر بھی پسندکیا جائے گا، لیکن اس قدر مختصر مدّت میںیہ اس قدرمقبول ہوجائے گا، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ خاص طور پر پاکستان میں اس ڈرامے کی شہرت و مقبولیت تو ہمارے لیے بہت حیران کن ہے۔ان کا کہناتھا کہ اگرجب طیّب اردوان برسرِ اقتدار نہ ہوتے، تو میرے خیال میں اس طرح کے ڈرامے کا نشر ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔ بلاشبہ انہوں نے ہمیں بہت سپورٹ کیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ امّتِ مسلمہ کو اس کے عظیم ماضی سے ا?گاہ کرنا چاہتے ہیں کہ کس طرح اس دَور کے مسلمانوں نے مشکلات برداشت کیں،اسلام کا بول بالا کیا اورسخت جدوجہد کی بدولت انہیں کیسی عظمت حاصل ہوئی، مگر افسوس اب بھی چہ مگوئیاں کی جاتی ہیں کہ صدر اردوان اکثر و بیش تر اس ڈراما سیریل کی تیاری، پروڈکشن وغیرہ میں دخل اندازی کرتے تھے اور اس میں تبدیلیاں، ترامیم بھی کرواتے تھے۔مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی ہمارے کام میں دخل اندازی کی، نہ ہی کسی قسم کی تبدیلی کے لیے مجبور کیا، البتہ ہماری راہ میں حائل ہونےوالی تمام رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش میں ہمارابَھرپور ساتھ دیا۔ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ مجھے بچپن ہی سے دینی علوم سے شغف ہے۔ چار پانچ سال کی عمر میں اپنے دادا کے ساتھ مسجد جاتا تھا،جہاں انہیں انہماک سے قرآنِ پاک پڑھتا دیکھتا، ان کی قرات سنتا۔ رفتہ رفتہ قرآنی آیات میری روح کی آب یاری کرتی میرے دِل میں اترتی چلی گئیں۔ بچپن، جوانی میں بھی مَیں نے کبھی قرانِ پاک کی قرات نہیں چھوڑی۔ آج بھی ہمہ وقت قرآنی آیات دہراتا رہتا ہوں۔ یہ ڈراما ایسے ہی نہیں بن گیا، میرے ذہن میں جو خیالات تھے،جس سوچ نے جگہ پائی تھی،اسے مَیں نے بہت سوچ سمجھ کرکورے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس ڈرامے میں آپ کو جو کچھ نظر آتا ہے، وہ درحقیقت میری اندر کی دنیا ہے۔چوں کہ مجھےاس موضوع پر مکمل گرفت حاصل تھی،تو آیات اور احادیث کے انتخاب کا کام مشکل نہیں لگا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.