کیس کا ڈراپ سین کر دینے والی تفصیلات

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے علاقہ کورنگی پولیس کی بڑی کامیابی ، زمان ٹاؤن تھانےکی حدود میں نوجوان منیب کو زندگی سے محروم کیے جانے میں ملوث ملزمان کو خاتون سمیت 3 دن میں گرفتار کرلیا۔ ملزمان کا کہنا ہے کہ منیف خاتون کو پیغام بھیج کر ڈرایا کرتا تھا، ملزمان نے

واقعے کو اور رنگ دینے کی کوشش کی تھی،پولیس کے مطابق2 ستمبر کو زمان ٹاؤن تھانے کی حدود کورنگی نمبر 6 قاسم سویٹ کے قریب واردات ہوئی جس میں منیف نامی نوجوان کو زندگی سے محروم کر دیا گیا، جسکا مقدمہ نمبر560/2020 زیر دفعہ 302/397/34 تعزیرات پاکستان زمان ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا تھا ،جبکہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، ایس ایس پی کورنگی فیصل عبدالله چاچڑ نے واقعے کے فوری بعد ملزمان کی جلد از جلدگرفتاری کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی ،پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے موت کے منہ میں جانےو الے نوجوان کی شناختی علامت اور نہ نوجوان کے پاس سے قومی شناختی کارڈ ملا جسکی وجہ فوری شناخت نہیں ہو رہی تھی، بعد ازاں پولیس نے بائیو میٹرک سسٹم سے اس نوجوان کی شناخت معلوم کی گئی جو منیف علی ولد شعیب علی کے نام سے ہوئی. ، جسکے بعد منیف کے لواحقین سے رابطہ کیا گیا اور تھانہ زمان ٹاؤن میں مقدمہ درج ہوا ۔ واقعہ کی تفتیش کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بروکار لاتے ہوئے واقعہ کی تفتیش شروع کی اور3 دن میں اس جرم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا ،جن میں ملزم شاہ رخ ، نعمان اور ملزمہ اریبہ بھی شامل ہے، پولیس کے مطابق دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ملزمان شاہ رخ اور نعمان نے واقعے کو اور رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن اصل میں منیف لڑکی سے آشنائی کی وجہ سے جان سے گیا ، گرفتار لڑ کی اریبہ نے فون کرکے منیف کو اپنے گھر کے پاس بلایا، واردات کی اور اس سےموبائل فون لیکر فرار ہوگیا،واردات کے بعد ملزمان نے کچھ فاصلے پر جا کر موبائل فون بھی نالے میں پھینک دیا تھا، منیف کا نکاح پہلے ہی ہوچکا تھا اور رخصتی 14 اگست 2020 کو ہوئی تھی ،منیف کورنگی کا رہائشی تھا، دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ملزمہ اریبہ کے منیف سے تعلقات تھے ، منیف ملزمہ اریبہ کو کہتا کہ میں تمہاری تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کردونگا تو اریبہ نے منیف کو کال کر کے شاہ رخ اور نعمان کے ذریعےزندگی سے محروم کروا دیا، ملزمہ اریبہ کے ملزم شاہ رخ کے ساتھ بھی تعلقات تھے اور دونوں کورنگی میں واقع فیکٹری میں ساتھ ہی کام کرتے تھے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *