وزیر اعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ۔۔!! ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کے خاتمے سے متعلق بڑا اعلان کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لوگ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں گے تو بندشوں میں مرحلہ وار نرمی بھی ممکن ہوگی۔مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر عوام کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ وبائی مرض کے دوران سماجی دوری اختیار کئے رکھیں

اور جس قدر ممکن ہو سکے خود کو گھروں تک محدود رکھیں۔ انہوں نے لکھا کہ جتنا لوگ خود کونظم و ضبط سے آراستہ کرینگے اتناہی ہمارے لیے وبا سے نمٹنا آسان ہوگا۔عمران خان نے کہاکہ لوگ نظم و ضبط سے رہیں گے توبندشوں میں مرحلہ وار نرمی بھی ممکن ہوگی۔وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹ میں شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسوں کی جانب سے دیا گیا ایک ویڈیو پیغام بھی منسلک کیا جس میں موجود تمام ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ عوام گھروں پر رہ کر کورونا کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔دوسری جانب حکومت نے علمائے کرام کے مشورے سے آئندہ جمعہ یوم توبہ اور یوم رحمت کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے علمائے کرام کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔امام ،مؤذن اور خطیب کو بھی نظر انداز نہیں کریں گے۔کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے ساتھ نظام زندگی کو بھی چلانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے رمضان المبارک میں مساجد کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق مان نے بتایا کہ وزیراعظم نے علمائے کرام کے تمام مطالبات سنے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مدارس کے بچوں کے لئے گھر بیٹھے تعلیم کا پروگرام لایا جائے گا۔جبکہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت آج تمام مسالک کے علماء و مشائخ کا اجلاس ہوا، جس میں رمضان المبارک میں عبادات کے ساتھ کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر بھی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کی بھرپور حمایت کی ہے۔

علمائے کرام نے اجلاس میں کہا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق وزیراعظم کا موقف حقیقت پسندی پر مبنی ہے اور زمینی حقائق کے مطابق ہے۔اجلاس میں شریک تمام افراد نے وزیراعظم سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔خیال رہے کہ فاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے حوالے سے علمائے کرام اور تمام صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے مساجد کیلئے 20 نکاتی گائیڈ لائن جاری کر دی گئی ہے، مساجد کے منتظمین کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے اور ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کئے جانے پر پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی اور فیصلہ تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہفتہ کو پی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء ہے جو کسی ایک ملک اور علاقے تک محدود نہیں، ملک میں کسی ایک گروہ یا طبقے کو بیماری پھیلانے کا الزام دینا درست نہیں ہے. نورالحق قادری نے کہا کہ ہماری طرف سے حج کی تیاری مکمل ہے، سعودی حکومت کی جانب سے رمضان کے وسط یا آخر تک حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اسلام میں قریباً 40 مواقع پر حج کو موقوف کیا گیا ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے کہا کہ گائیڈ لائن پر عمل درآمد کیلئے مساجد کی کمیٹیاں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گی اور ضلعی انتظامیہ بھی اس حوالے سے بھرپور طریقے سے حصہ لے گی، علمائے کرام کو عوام کو اس وباء سے بچانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں سحری، افطاری اور تراویح میں خصوصاً احتیاط کرنا ہو گی، عوام کو چاہیے کہ خود بھی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.