رابی پیرزارہ کا بڑا اقدام۔!!! صرف باتیں نہیں عمل بھی کر دکھایا۔۔۔ جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) شوبز انڈسٹری کو خیر باد کہنے والی سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ بھی مشکل وقت میں مستحق افراد کی مدد کے لیے میدان میں آگئیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رابی پیرزادہ نے سماجی را بطے کی ویب سائٹ ٹو ئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ میں ابھی 100 سے زائد خاندانوں میں

راشن تقسیم کر رہی ہوں، میں اب گلوکارہ نہیں مگر اللہ کے نام کی خوبصورت خطاطی کر کے انہیں فروخت کرتی ہوں۔ رابی نے اس سلسلے میں بتایا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے تیار کی جانے والی پینٹنگز فروخت کے لیے پیش کردیں ہیں اور ان سے جو رقم حاصل ہوتی ہے اُس سے غریبوں کی مدد کرتی ہوں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی پینٹنگز کی تصاویر شیئر کیں اور دلچسپی رکھنے والے افراد کورابطے کےلئے ایک نمبر بھی دیا۔ واضح رہے کہ رابی پیرزادہ نے ایک پینٹنگز کی قیمت تیس سے پچاس ہزار روپے مقرر کی ہے۔ دوسری جانب وہ جوخبر دیتے تھے اب خود خبر بن گئے، جی این این میں تنخواہوں میں نصف کٹوتیاں، اطلاعات کے مطابق جی این این میں بھی تنخواہوں میں کٹوتیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ تنخواہوں میں نہ صرف ففٹی پرسنٹ کٹ لگایا جا رہا ہے بلکہ چھانٹیوں کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نو اپریل کو جی این این میں سیلری تو دے دی گئی لیکن تین پروگراموں تاروں سے کریں باتیں، ویو پوائنٹ اور عائشہ بخش کے پروگرام کی پوری ،پوری ٹیم کو تنخواہیں نہیں دی گئیں بلکہ انہیں ایک ہفتے کا ٹائم دیا گیا ہے۔۔ ان تینوں پروگراموں کے ٹیم ممبرز کو ایچ آر نے بتایا ہے کہ آپ کی سیلری میں ففٹی پرسنٹ کٹ لگے گا اور تنخواہیں ایک ہفتے میں مل جائیں گی۔ذرائع کے مطابق چینل انتظامیہ نے اپنے ریٹنگ والے مزاحیہ پروگرام تاروں سے کریں باتیں کو گزشتہ دنوں بند کرکے ٹیم کے کچھ ارکان کو فون پر فائر ہونے کا کہہ دیا تھا۔ ذرائع کےمطابق عمران جونیئر ڈاٹ کام پر خبر آتے ہی فوری یہ فیصلہ واپس لےلیا حالانکہ فائرنگ کے لیٹرز بھی تیار تھے صرف کارکنوں کے حوالے کرنے تھے لیکن جلدبازی میں فیصلہ کیاگیا کہ اگر کورونا بحران میں یہ فیصلہ کیا تو مارکیٹ میں بدنامی ہوگی اس لئے اس معاملے کو کچھ دنوں کے لئے موخر کردیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جی این این چینل کے اعلیٰ ذرائع بتاتے ہیں کہ جن تین پروگراموں کی ٹیم کی تنخواہیں روکی گئی ہیں ان کی کارکردگی سے چینل کے مالک مطمئن نہیں، حالانکہ بتایا جاتا ہے کہ پروگرام ریٹنگ میں آرہے ہیں لیکن مالک کو شک ہے کہ انہیں فیک ریٹنگ دکھا کر بہلایاجارہا ہے۔ یہ تینوں پروگرام بند ہوسکتے ہیں۔۔ اور جلد ہی برطرفیوں کی ہوا بھی چل سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.