آٹا بحران کی اصل وجہ کیا تھی؟ ایسے حقائق سامنے آگئے کہ بے قصور جہانگیرترین پر الزام لگانے والے شرم سے پانی پانی ہو جائیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حالیہ آٹا بحران پر خاموشی توڑتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ گزشتہ سال اپریل میں بارش سے گندم کی 1.5 ملین ٹن فصل خراب ہوئی، ای سی سی نے جو لائی میں گندم برآمد پر فوری پابندی لگا دی تھی، اپریل، مئی، جون میں صرف 70 ہزارٹن گندم برآمد ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 2017-18 میں ن لیگ نے 21 لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ کی، ن لیگ حکومت نے گندم ایکسپورٹ پر38ارب روپے سبسڈی دی، ن لیگ نے5سال میں گندم پر67ارب سبسڈی دی۔ نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ گندم کی قیمتوں سے متعلق مس مینجمنٹ کااعتراف کرتاہوں، پنجاب میں گندم کی قیمت بڑھنے کے خدشے پربارڈرسیل کردیا تھا ، خیبرپختونخوامیں روایتی طورپر60 فیصدآٹاپنجاب سے جاتاہے،بالائی سندھ بھی رحیم یارخان کے راستے پنجاب سے آٹا لیتا ہے ، بالائی سندھ بھی رحیم یارخان کے راستے پنجاب سے آٹالیتاہے، بارڈرسیل ہونے کے بعد 48 گھنٹوں میں دوبارہ کھول دیاگیاتھا، سپلائی رکنے سے صرف 6 روزتک قیمتوں میں اضافہ ہواتھا، آج پنجاب میں آٹا40روپے کلوکے ریٹ پرفروخت ہورہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں4 لاکھ ٹن گندم موجودتھی،4 لاکھ ٹن پاسکونے دی، پنجاب اورسندھ کوپاسکوسے ملنے والی گندم کی قیمتیں ایک ہی ہیں، سندھ،پنجاب کے لیول پرآٹے کی قیمتیں کیوں نہیں لارہاہے؟ سندھ حکومت گندم کوفلورملزتک نہیں پہنچارہی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں گندم بحران پرایف آئی ا ے کی تحقیقات شروع ہو گئیں ہیں ، 18 ویں ترمیم کے تحت زراعت،خوراک کامحکمہ صوبوں کے پاس ہے۔ جہانگری ترین نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمتیں بڑھنے سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا، یہ تاثرغلط ہے، چینی کی قیمت بڑھنے کاکاشت کارکوبراہ راست فائدہ ہورہاہے، حکومت چینی کی درآمدکومفت کردے تاکہ قیمتیں کنٹرول ہوں، امیدہے فروری میں ہی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ آخری 2سال میں ن لیگ نے گیس،بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، گزشتہ حکومت میں گردشی قرضہ 38ارب روپے ماہانہ بڑھ رہاتھا،ن لیگ کے دورحکومت میں گیس خسارہ 100 ارب روپے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 115 ارب روپے کی بجلی چوری پکڑی، حکومت کوپلانٹس کی”کیپسٹی پیمنٹ”کی وجہ سے ٹیرف بڑھاناپڑا، پاورسیکٹرکااب12سے 13ارب روپے کا گردشی قرضہ رہ گیا، آئندہ 8 سے 9ماہ میں گردشی قرضے کوصفرپرلے آئیں گے۔ ٹماٹر کے بحران سے متعلق بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہناتھا کہ ٹماٹرسپلائی کرنے والی نرسری گرمی سے خراب ہوگئی، دوبارہ نرسری لگنے میں 2ماہ تاخیرسے ٹماٹرکی قلت پیداہوئی، ٹماٹر250روپےسے کم ہوکر40 روپے کلوہوچکاہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.